بے روزگاروں کیلئے
’یوا ساتھی‘ اسکیم کا اعلان
لکشمی بھنڈار وظیفے میں بڑا اضافہ
ماہانہ وظیفے میں 500 کا اضافہ
2 کروڑ سے زائد خواتین ہوںگی مستفید
آشا اور آنگن واڑی ملازمین کے مشاہرے میں بھی اضافہ
عوام دوست اور ہر فرد کا بجٹ
مرکز نے 2 لاکھ کروڑ روکے
پھر بھی ترقی نہیں رکے گی:وزیر اعلیٰ
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ،5؍فروری: اسمبلی انتخابات سے قبل بنگال کا بجٹ پیش کر دیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ عبوری بجٹ مکمل طور پر عوام دوست ہے اور اس میں مالیاتی نظم و ضبط واضح طور پر جھلکتا ہے۔ انہوں نے اسے مرکزی حکومت کے بجٹ سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی بجٹ “بے سمت اور بغیر کسی ٹھوس مقصد کے” ہے۔ بجٹ کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل امتیازی سلوک اور محرومی کے باوجود ریاستی حکومت نے عام لوگوں کی بہبود کو اولین ترجیح دی ہے۔ ہمارا بجٹ عوام دوست ہے، نہ کہ مرکزی بجٹ کی طرح سمت اور مقصد سے خالی۔انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کو مرکزی حکومت سے اس کے جائز واجبات نہیں مل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت نے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ مرکز کی جانب سے مالی طور پر محروم رکھے جانے کے باوجود ہم نے مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بجٹ پیش کیا ہے۔ ریاست کے مالیاتی انتظام کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ عبوری بجٹ ذمہ دارانہ حکمرانی اور مالیاتی توازن کا مظہر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بجٹ میں خواتین، نوجوانوں، مزدوروں اور معاشرے کے کمزور طبقات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل دن میں مغربی بنگال اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کے لیے 06.4لاکھ کروڑ روپے کا عبوری بجٹ پیش کیا گیا۔
ہم نے عام آدمی کی ضرورتوں کو بجٹ کے مرکز میں رکھا ہے:وزیر خزانہ
کولکاتہ،5؍فروری[جدید بھارت نیوز سروس ]: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت نے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی بجٹ میں عام آدمی کا خیال رکھ کر اپوزیشن کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی میں 27-2026 کے لیے 06.4لاکھ کروڑ روپے کا عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ چندریما بھٹاچاریہ نے ‘لکشمی بھنڈار‘اسکیم کی رقم میں اضافہ کر کے ایک بڑا انتخابی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اس اسکیم کے تحت خواتین مستفیدین کے ماہانہ وظیفے میں 500 روپے اضافے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے سے 2.2 کروڑ سے زائد خواتین مستفید ہوں گی۔ اب عام خواتین کو 1500 روپے ماہانہ ملیں گے، جبکہ درج فہرست ذاتوں، قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کو 1700 روپے دیے جائیں گے۔عبوری بجٹ میں ریاستی ملازمین کے مہنگائی الاؤنس (DA) اور آشا و آنگن واڑی ورکرز کے مشاہرے میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے اضافی اخراجات کے لیے 15000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ حال ہی میں رجسٹرڈ ہونے والے 20 لاکھ سے زائد نئے درخواست گزاروں کو بھی بڑھی ہوئی شرح کے مطابق ادائیگی کی جائے گی۔ خواتین کی فلاحی اسکیموں کے علاوہ، ریاستی ملازمین کے ڈی اے میں 4 فیصد اضافہ اور آشا و آنگن واڑی کارکنوں کے ماہانہ مشاہرے میں 1000 روپے کا اضافہ شامل ہے۔ حکومت نے یہ اعلان بھی کیا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوتی ہے تو اگست سے ثانوی تعلیم مکمل کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کو 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ اس کے لیے ‘بنگلار یوا ساتھی‘ نامی نئی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے، جو 21 سے 40 سال کے نوجوانوں کے لیے ہوگی اور 15 اگست سے شروع ہوگی۔واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی مدت مئی میں ختم ہو رہی ہے، اس لیے مکمل بجٹ کے بجائے ‘ووٹ آن اکاؤنٹ‘ پیش کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل ایڈوائزر امت مترا نے پریس کانفرنس میں ترقی کا ریکارڈ پیش کیا۔ ممتا بنرجی نے مرکز کی مبینہ بے رخی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنے وعدے پورے کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ریاستی ملازمین کو اب تک 18 فیصد ڈی اے مل رہا تھا، جو اب بڑھ کر 22 فیصد ہو گیا ہے، حالانکہ مرکز کے مقابلے میں اب بھی 36 فیصد کا فرق باقی ہے۔ بجٹ میں ساتویں پے کمیشن کی تشکیل کا بھی ذکر کیا گیا ہے کیونکہ چھٹے پے کمیشن کی مدت 31 دسمبر 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔پنشنرز کے لیے بھی بڑے اعلانات کیے گئے ہیں۔ ویسٹ بنگال ہیلتھ اسکیم کے تحت اب دو لاکھ روپے سے زائد کے علاج کے اخراجات کا 75 فیصد ‘کیش لیس‘ سہولت کے دائرے میں آئے گا۔ ‘گگ اکانومی‘ سے وابستہ افراد کو بھی ‘سواستھیہ ساتھی‘ اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ کے اہم نکات
ض روزگار نوجوانوں (21 سے 40 سال) کے لیے نئی اسکیم کا اعلان، جس کے تحت ثانوی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو 1500 روپے ماہانہ الاؤنس دیا جائے گا۔ یہ اسکیم 15 اگست سے شروع ہوگی۔
ض ریاستی ملازمین کے لیے مراعات: سرکاری ملازمین کے مہنگائی الاؤنس (DA) میں 4 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس سے مجموعی ڈی اے 22 فیصد ہو گیا۔ ساتھ ہی ساتویں پے کمیشن کی تشکیل کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
ض آشا اور آنگن واڑی ورکرز: آشا اور آنگن واڑی کارکنوں کے ماہانہ مشاہرے میں 1000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
ض صحت کی سہولیات: ویسٹ بنگال ہیلتھ اسکیم کے تحت 2 لاکھ روپے سے زائد کے علاج پر 75 فیصد کیش لیس سہولت ملے گی۔ ‘گگ اکانومی‘کے کارکنوں کو بھی ‘سواستھیہ ساتھی‘اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔
ض ترقیاتی منصوبے: بروئپور میں ایک ‘کلچرل سٹی‘، ریاست میں 6 انڈسٹریل کوریڈورز اور مائیکرو و چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے لیے 5 نئے انڈسٹریل پارکس بنائے جائیں گے۔



