فرہاد حکیم کا ہمایوں کبیر پر غصہ
کولکاتہ :مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت شدید ہلچل اور گرما گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے، جب عام جنتا اننان پارٹی کے چیئرمین ہمایوں کبیر کی ایک مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے اور مختلف جماعتوں کے رہنما کھل کر ردعمل دے رہے ہیں۔ تاہم ہمایوں کبیر نے اس ویڈیو کو مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔کولکاتہ کے میئر فرہاد حکیم نے اس معاملے پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ہمایوں کبیر پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص پیسوں کے بدلے مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرتا ہے، وہ سیاست کے قابل نہیں۔ انہوں نے عوام، خاص طور پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ ایسے شخص کو کسی بھی صورت ووٹ نہ دیں۔ وائرل ویڈیو میں مبینہ طور پر ہمایوں کبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی اعلیٰ رہنماؤں سے رابطہ قائم کیا، یہاں تک کہ وزیر اعظم کے دفتر سے بھی بات چیت کی۔ ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور آسام کے وزیر اعلیٰ سے بھی رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا، اور وہ ان سے رابطے میں ہیں۔مزید برآں، ویڈیو میں ہمایوں کبیر کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ ریاست کے اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ترنمول کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں، جن میں کنال گھوش اور اروپ بسواس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔دوسری جانب، ہمایوں کبیر نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ویڈیو ان کی شبیہ خراب کرنے کی سازش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی فون کالز کو غیر قانونی طور پر ٹیپ کیا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک سے لائی گئی مشینوں کے ذریعے ان کی واٹس ایپ کالز تک ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔



