افسران کے تبادلے آئین پر حملہ اور سوچی سمجھی سازش :ممتا بنرجی
کولکاتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل ریاست میں اعلیٰ افسران کے تبادلوں کو لے کر سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے الیکشن کمیشن کے اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اعلیٰ سطح کی سیاسی مداخلت اور آئین پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔جمعرات کی رات الیکشن کمیشن آف انڈیانے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مغربی بنگال سے 13 آئی پی ایس افسران کو تمل ناڈو اور کیرالہ منتقل کرنے کا حکم دیا۔ اس سے قبل بھی چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، ڈی جی پی اور کولکاتہ پولیس کمشنر سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ہٹایا جا چکا ہے، جس کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طویل بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے باضابطہ نوٹیفکیشن سے پہلے ہی 50 سے زائد سینئر افسران کو من مانی اور بغیر پیشگی اطلاع ہٹا دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کوئی معمول کی انتظامی کارروائی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ انٹیلی جنس بیورو، اسپیشل ٹاسک فورس اور سی آئی ڈی جیسے اہم اداروں کے افسران کو چن چن کر ہٹایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب انہی افسران کو دیگر ریاستوں میں الیکشن مبصر کے طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا، یہ گورننس نہیں بلکہ افراتفری، کنفیوژن اور شدید نااہلی کی مثال ہے۔بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال کے خلاف انتقامی سیاست کی جا رہی ہے کیونکہ ریاست کسی کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر بنگال کو ہی اس طرح کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے صورتحال کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے تشبیہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مغربی بنگال پر ادارہ جاتی ہیرا پھیری کے ذریعے قبضہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔اس معاملے کے بعد ریاست میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے اور انتخابات سے قبل مرکزی اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں انتخابی سیاست پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔



