Thursday, February 5, 2026
ہومWest Bengalممتا بنرجی کا سپریم کورٹ سے سوال، ’’ بنگال ہی کیوں؟‘‘

ممتا بنرجی کا سپریم کورٹ سے سوال، ’’ بنگال ہی کیوں؟‘‘

عدالت نے الیکشن کمیشن سے ایس آئی آر پر جواب مانگا

نئی دہلی، 4 فروری (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بدھ کے روز سپریم کورٹ میں خود پیش ہو کر الزام لگایا کہ انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے ذریعے ان کی ریاست کو ’منتخب طور پر نشانہ‘ بنایا جا رہا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف محترمہ بنرجی کی درخواست پر سماعت کی۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ موجودہ ایس آئی آر عمل سے بڑے پیمانے پر ووٹروں کا حق چھین لیا جائے گا۔ انہوں نے اسے ایک غیر شفاف، جلد بازی پر مبنی، غیر آئینی اور غیر قانونی عمل قرار دیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے والی ان کی رٹ پٹیشن پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب دینے کے لیے کہا۔ جیسے ہی کیس کی سماعت شروع ہوئی، سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائنن نے درخواست کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ آئٹم نمبر 36 اور 37 کے طور پر درج نئے موضوعات سے متعلق ہے۔جب عدالت نے اشارہ دیا کہ وہ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرے گی تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود پوڈیم تک گئیں اور بنچ سے براہِ راست مخاطب ہونے کی استدعا کی۔ محترمہ بنرجی نے دلیل دی کہ ’’یہ ایس آئی آر کا عمل صرف نام نکالنے کے لیے ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد خاندانی نام تبدیل کرنے والی خواتین یا رہائش تبدیل کرنے والے غریب تارکینِ وطن جیسی سماجی حقیقتوں کی وجہ سے ہونے والی معمولی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر حقیقی ووٹروں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ووٹروں کے نام ’منطقی تضاد‘ کی بنیاد پر ہٹا دیے گئے، چاہے وہ تضاد صرف خاندانی نام یا ہجے کا معمولی فرق ہی کیوں نہ تھا۔ غریب لوگ جو کام کاج کے لیے باہر جاتے ہیں، ان کے نام بھی نکال دیے گئے ہیں۔ یہ نام ہٹانے کی وجہ کیسے ہوسکتی ہے؟انہوں نے سیاسی طور پر نشانہ بنائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا’’چار ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ 24 سال بعد ہی کیوں؟ سب کچھ تین ماہ میں ختم کرنے کی یہ جلدی کیوں؟ بنگال ہی کیوں؟ آسام کیوں نہیں؟‘‘ ۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ یہ عمل فصلوں کی کٹائی کے سیزن اور نقل مکانی کے عروج کے دور میں شروع کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی بوتھ لیول آفیسرز ہسپتال میں داخل ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے اٹھائے گئے مسائل خاص طور پر مقامی بولیوں، بنگالی سے انگریزی میں ترجمہ اور یہاں تک کہ تضادات پیدا کرنے میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے استعمال سے متعلق مسائل کا اعتراف کیا۔ چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ ’’اس قسم کے مسائل کی بنیاد پر، حقیقی ووٹروں کے ناموں کو(فہرست سے) خارج نہیں کیا جانا چاہیے،‘‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ عدالت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حل تلاش کرے گی کہ مستند ووٹروں کے نام فہرست میں موجود رہیں۔بنچ نے ترجمے کی دشواریوں کا بھی نوٹس لیا اور مشورہ دیا کہ ریاستی حکومت ای سی آئی کو غلطیوں کی نشاندہی اور تصحیح میں مدد کے لیے بنگالی اور مقامی بولیوں پر عبور رکھنے والی ٹیمیں فراہم کر کے تعاون کر سکتی ہے۔ اس معاملے میں پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ شیام دیوان نے عدالت کے سامنے تفصیلی اعداد و شمار رکھتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 1.36 کروڑ ووٹرز — جو کہ کل رائے دہندگان کا تقریباً 20 فیصد ہیں — کو منطقی تضاد کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جبکہ تقریباً 32 لاکھ ووٹرز کو ’ان میپڈ ‘قرار دیا گیا ہے۔مسٹر دیوان نے دلیل دی کہ ان میں سے زیادہ تر معاملات ناموں کے ہجے کے معمولی فرق جیسے کہ “Datta”، “Dutta”، “Ganguly” یا “Roy” سے متعلق ہیں، جو کہ پرانی بنگالی انتخابی فہرستوں کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ووٹروں کو جاری کیے گئے نوٹسز میں وجوہات بتائے بغیر صرف ’’میپنگ میں تضاد‘‘ لکھا گیا ہے، جس سے ووٹر جواب دینے کے مؤثر موقع سے محروم ہو گئے ہیں۔ مسٹر دیوان نے عرض کیا، ’’عدالتی احکامات کے باوجود فیملی رجسٹر، آدھار کارڈ، ذات پات کے سرٹیفکیٹ، کسی کو بھی ان کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جا رہاہے۔‘‘ انہوں نے استدعا کی کہ صرف ناموں کے فرق کی بنیاد پر جاری کردہ نوٹسز واپس لیے جائیں اور ہر ایل ڈی درجہ بندی کی وجہ ظاہر کرنے کا حکم دیا جائے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ ڈی ایس نائیڈو نے کہا کہ ابھی تک عرضیاں موصول نہیں ہوئی ہیں اور ہدایات حاصل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے سختی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل سخت ٹائم لائنز کے تحت چل رہا ہے۔بنچ نے کہا، ’’ہم پہلے ہی مدت میں دس دن کی توسیع کر چکے ہیں۔ سماعتوں کے لیے صرف چار دن باقی ہیں۔ ہم ایک ہفتے کی رعایت نہیں دے سکتے۔‘‘محترمہ ممتا بنرجی نے عدالت سے کہا، ’’میں یہاں اپنی پارٹی کے لیے نہیں آئی ہوں۔ میں نے الیکشن کمیشن کو خطوط لکھے۔ جب انصاف بند دروازوں کے پیچھے رو رہا ہو اور ہمیں کہیں سے انصاف نہیں مل رہا ہے، تو ہم یہاں آئے۔‘‘ محترمہ بنرجی کی ذاتی مداخلت کے بعد، بنچ نے کہا کہ ریاستِ مغربی بنگال نے بھی آزادانہ طور پر ایک درخواست دائر کی ہے اور کپل سبل سمیت سینئر وکلاء نے پہلے ہی طریقٔہ کار کی مشکلات اور حقیقی باشندوں کے کے ناموں کےاخراج کے خدشات کی وضاحت کر دی ہے۔دلائل سننے کے بعد، سپریم کورٹ نے محترمہ ممتا بنرجی کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کر دیا، جو مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کی قریبی عدالتی جانچ کا اشارہ ہے۔ انتخابی فہرستوں کو حتمی شکل دینے سے قبل باقی رہ جانے والے محدود وقت کے پیشِ نظر، اس معاملے پر جلد سماعت ہوسکتی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات