ہومWest Bengalممتا بنرجی کا مرکز سے روزگار پر براہِ راست سوال

ممتا بنرجی کا مرکز سے روزگار پر براہِ راست سوال

کہا:دو کــروڑ نـوکــریوں کا وعــدہ کـہـاں گیا؟

جدید بھارت نیوز سروس
بانکوڑا؍بیر بھوم: وزیراعلیٰ ممتا بنرجی روزانہ بنگال کے کونے کونے میں جا کر ایک ایک دن میں چار چار انتخابی جلسے کر رہی ہیں۔ جہاں درگاپور کے سٹی سینٹر میں واقع چترنگ میدان میں منعقدہ انتخابی جلسے میں وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی پر تیکھا نشانہ سادھا۔ مرکز کی حکومت پر حملہ آور ہوتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا نے کہا کہ، “آپ لوگ مجھے جیل میں ڈال دو، لیکن یاد رکھو مجھے اور بھی زیادہ ووٹ ملیں گے، یا پھر ورنہ، مجھے گولی مار دو!” بیر بھوم کے سیوڑی ضلع میں وزیراعلیٰ ممتا نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “میرے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ کے دوران انہوں نے مجھے چار گھنٹے تک پریشان کیا اور بٹھا کر رکھا۔ کیا مجھے انہیں ایسے ہی چھوڑ دینا چاہیے؟ بھلے ہی آپ انہیں بخش دیں، لیکن میں تو بالکل نہیں بخشوں گی۔” وہیں بانکوڑا میں لوگوں سے کہا کہ، بنگال میں لوگ جات دھرم سے الگ ہو کر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ انتخابی غیر جانبداری پر تشویش جتاتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ کئی انتخابی حلقوں میں ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں ووٹروں کے نام منصوبہ بند طریقے سے ہٹائے جا رہے ہیں اور انہوں نے سیاسی مخالفین پر جمہوری عمل کو کمزور کرنے میں ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “جمہوریت کا قتل” قرار دیا اور پارٹی کارکنوں کو انتخاب کے دوران محتا رہنے کی تنبیہ کی۔
وزیراعظم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے ممتا نے چیلنج کیا کہ اگر وہ خود کو ریاست کی تمام 294 نشستوں کا امیدوار بتاتے ہیں، تو انہیں طے کرنا چاہیے کہ وہ ملک کے وزیراعظم رہیں گے یا بنگال کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر بیرونی ہونے کا الزام بھی لگایا۔ روزگار کے مسئلے پر ممتا نے مرکزی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ “دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ کہاں گیا؟” انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت جب بھی خالی اسامیاں بھرنے کی کوشش کرتی ہے تو معاملے عدالت میں پہنچا کر بھرتیوں کو روکا جاتا ہے۔ بی جے پی پر حملہ جاری رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ “کیا بی جے پی نوکری دے گی؟ فوج اور ریلوے میں عہدے خالی ہیں، پھر بھی وہ وعدے کر رہے ہیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت روزگار دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ’بلڈوزر‘ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ممتا نے کہا کہ وہ “بلڈوزر کی سیاست میں نہیں بلکہ پیار اور ترقی کی سیاست میں یقین رکھتی ہیں۔” بدعنوانی اور دولت کے مسئلے پر انہوں نے بی جے پی لیڈروں پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ “آپ دوسروں پر الزام لگاتے ہیں لیکن اپنے لیڈروں سے پوچھیے کہ ہلدیہ بندرگاہ سے کتنا پیسہ جاتا ہے۔” ممتا نے ووٹروں کو ہوشیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ “بی جے پی سے پیسہ نہ لیں، غلطیاں نہ کریں۔ وہ کھاتے میں پیسہ دینے کا لالچ دے کر بعد میں ایجنسیوں کے ذریعے کارروائی کر سکتے ہیں۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں 105 سماجی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ڈیوچا-پاشامی پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں 32 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی اور قریب دو لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی وعدوں میں ان کی حکومت دھوکہ نہیں دیتی اور لکشمی بھنڈار یوجنا جیسے وعدوں کو پورا کیا گیا ہے۔
انتخابی غیر جانبداری پر تشویش جتاتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ کئی انتخابی حلقوں میں ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہزاروں ووٹروں کے نام منصوبہ بند طریقے سے ہٹائے جا رہے ہیں اور انہوں نے سیاسی مخالفین پر جمہوری عمل کو کمزور کرنے میں ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “جمہوریت کا قتل” قرار دیا اور پارٹی کارکنوں کو انتخاب کے دوران محتا رہنے کی تنبیہ کی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات