نوانو نے الیکشن کمیشن کو دباؤ کی دلیل دے دی
کولکاتہ:ریاست میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے عمل کے درمیان تین آئی اے ایس افسران کے تبادلے کو لے کر الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان تبادلوں پر اعتراض کرتے ہوئے ریاستی سیکریٹریٹ نبنّا سے جواب طلب کیا تھا، جس پر جمعرات کو ریاستی حکومت نے باضابطہ جواب ارسال کر دیا ہے۔اپنے تحریری جواب میں نبنّا نے واضح کیا ہے کہ تینوں افسران پر کام کا غیر معمولی دباؤ تھا، اسی دباؤ کو کم کرنے کے مقصد سے ان کے تبادلے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریاستی حکومت نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم کرے اور اس پر اپنی مہر ثبت کرے۔قابلِ ذکر ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کو شفاف اور بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ہدایت دی تھی کہ اس عمل میں شامل کسی بھی سرکاری افسر کا تبادلہ کمیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت نے گزشتہ سال دسمبر اور رواں سال جنوری میں مرحلہ وار تین آئی اے ایس افسران کے تبادلے کیے تھے۔ان افسران میںاشونی کمار یادو (شمالی و جنوبی دیناج پور کے انچارج)،رندھیر کمار (شمالی 24 پرگنہ اور کولکاتہ شمالی)،سمیتا پانڈے (مشرقی و مغربی بردوان اور بیر بھوم)شامل ہیں۔ یہ تینوں افسران بطور ای آر او (Electoral Registration Officer) خدمات انجام دے رہے تھے۔الیکشن کمیشن کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت نے ان تبادلوں سے قبل کمیشن سے کوئی منظوری حاصل نہیں کی، جو کمیشن کے واضح احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے نوانو کو خط لکھ کر نہ صرف وضاحت طلب کی بلکہ تبادلے کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کی ہدایت بھی دی تھی۔ذرائع کے مطابق، نوانونے اپنے جوابی خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تینوں افسران ایس آئی آر کے کام کے مرکزی ذمہ دار تھے اور مسلسل دباؤ کے باعث ان کی کارکردگی متاثر ہونے کا اندیشہ تھا۔ اسی لیے انہیں نسبتاً کم اہم ذمہ داریوں والے مقامات پر تعینات کیا گیا، تاکہ ایس آئی آر کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ریاستی حکومت نے اس خط میں زور دیا ہے کہ الیکشن کمیشن ان تبادلوں کو انتظامی ضرورت کے تحت لیا گیا فیصلہ سمجھے اور ریاست کے اختیار کا احترام کرے۔ یہ خط ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال کے نام ارسال کیا گیا ہے۔اب سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ الیکشن کمیشن ریاستی حکومت کی اس وضاحت کو قبول کرتا ہے یا مزید کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔



