ریاستی سی ای او بمقابلہ قومی الیکشن کمیشن
کولکاتہ :مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر ووٹنگ کے مراحل پر بڑا اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کا دفتر اسمبلی انتخابات ایک ہی مرحلے میں کرانے کے حق میں ہے، جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا امن و امان، افرادی قوت اور نیم فوجی دستوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے تین یا چار مرحلوں میں ووٹنگ کرانے پر زور دے رہا ہے۔ریاستی سی ای او منوج اگروال کے دفتر کے ذرائع کے مطابق، اگر مناسب تعداد میں نیم فوجی دستے دستیاب ہوں تو ایک ہی مرحلے میں انتخابات کرانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سنگل فیز ووٹنگ سے پولنگ کے دن تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی اور انتخابی عمل زیادہ شفاف اور منظم ہو سکے گا۔سی ای او کے دفتر کے ایک سینئر اہلکار نے کہا،ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ کرانے میں آخر مسئلہ کیا ہے؟ مغربی بنگال میں پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور سنگل فیز الیکشن کرانے کی سفارش کریں گے۔”دوسری جانب، قومی الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ اگر پورے صوبے میں ایک ہی دن ووٹنگ کرائی گئی تو تمام بوتھوں پر خاطر خواہ نیم فوجی دستے تعینات کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔ کمیشن کے مطابق اس صورتحال میں تشدد کے خدشات بڑھ سکتے ہیں اور پولنگ اسٹیشنز کی سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ 2021 میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات آٹھ مرحلوں میں ہوئے تھے، جس پر الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس وقت سوال اٹھایا تھا کہ جب تمل ناڈو جیسے 39 اضلاع پر مشتمل بڑے صوبے میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہو سکتے ہیں تو مغربی بنگال میں آٹھ مرحلوں کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی؟تاریخی طور پر دیکھا جائے تو2011 میں یو پی اے حکومت کے دوران بنگال میں 6 مرحلوں میں انتخابات ہوئے,2016 میں مودی حکومت کے دور میں 7 مرحلے رکھے گئے ,2021 میں تعداد بڑھ کر 8 مرحلوں تک پہنچ گئی ،دلچسپ بات یہ ہے کہ حال ہی میں الیکشن کمیشن نے بہار میں اسمبلی انتخابات ایک ہی مرحلے میں کرائے تھے، جس کے بعد بنگال میں بھی سنگل فیز ووٹنگ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ مغربی بنگال میں آخری بار 1996 میں ایک ہی مرحلے میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے، جب لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات بیک وقت کرائے گئے تھے۔الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ ووٹنگ کے مراحل کا حتمی فیصلہ ریاستی حکام سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔ تاہم، موجودہ حالات میں سی ای او کے دفتر کی سنگل فیز ووٹنگ کی تجویز پر کمیشن نے اعتراض درج کرایا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا الیکشن کمیشن ریاستی حکومت کی دلیل مانتا ہے یا ایک بار پھر مغربی بنگال میں کثیر مرحلہ جاتی انتخابات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔



