چیف الیکشن کمشنر اور آبزرور کے درمیان سخت تکرار
کولکاتہ/نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں کوچ بہار جنوبی کے جنرل آبزرور انوراگ یادو اپنے ہی حلقے کے پولنگ بوتھس کی درست تعداد بتانے میں ناکام رہے، جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ ان کی سخت تکرار ہو گئی۔ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف انتخابی انتظامات کی سنجیدگی پر سوال اٹھا دیا ہے بلکہ ان افسران کی تیاری اور ذمہ داری پر بھی بحث چھیڑ دی ہے، جنہیں انتخابی شفافیت اور نگرانی کی اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ الیکشن کمیشن کے فل بنچ کی ایک اہم ورچوئل میٹنگ کے دوران پیش آیا، جس میں مغربی بنگال کی تمام 294 اسمبلی نشستوں پر تعینات جنرل آبزرورز شریک تھے۔ میٹنگ کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اچانک کوچ بہار جنوبی کے آبزرور انوراگ یادو سے سوال کیا کہ ان کے حلقے میں کل کتنے پولنگ بوتھ ہیں۔ بظاہر یہ ایک بنیادی اور لازمی نوعیت کا سوال تھا، جس کا جواب کسی بھی آبزرور کو فوراً معلوم ہونا چاہیے تھا۔لیکن سوال سنتے ہی انوراگ یادو مبینہ طور پر گھبرا گئے، ان کی زبان لڑکھڑا گئی اور وہ فوری جواب دینے کے بجائے ہکلانے لگے۔ کافی دیر کی خاموشی اور الجھن کے بعد انہوں نے جواب دیا کہ کوچ بہار جنوبی اسمبلی حلقے میں 125 بوتھ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کا یہ جواب نہ صرف غلط تھا بلکہ ان کی غیر تیاری اور لاپروائی کی واضح مثال کے طور پر دیکھا گیا، جس پر چیف الیکشن کمشنر سخت برہم ہو گئے۔میٹنگ کے دوران ہی گیانیش کمار نے سخت لہجہ میں سب کے سامنے انوراگ یادو کو ہدایت دی کہ وہ اپنا کام چھوڑ کر گھر چلے جائیں۔ اس اچانک اور عوامی سرزنش نے میٹنگ کے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق، سینئربیوروکریٹ انوراگ یادو نے بھی اس عوامی توہین کو خاموشی سے قبول نہیں کیا بلکہ چیف الیکشن کمشنر کو جوابی ردعمل دیا، جس سے میٹنگ میں مزید تلخی پیدا ہو گئی۔سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس بار افسران کی معمولی غفلت کو بھی برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ تاہم دوسری طرف، میٹنگ کے دوران ایک سینئر افسر کو سب کے سامنے اس انداز میں ڈانٹنا اور فوری ہٹانا بھی بیوروکریسی کے حلقوں میں زیرِ بحث آ گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ واقعہ دیگر آبزرورز اور انتخابی افسران کے لیے وارننگ سگنل ثابت ہوتا ہے یا پھر اس کے بعد انتظامی سطح پر مزید ہلچل دیکھنے کو ملتی ہے۔



