ہومWest Bengal59 لاکھ ’غور طلب‘ ووٹرز پر بڑا اپڈیٹ

59 لاکھ ’غور طلب‘ ووٹرز پر بڑا اپڈیٹ

ہائی کورٹ کی سپریم کورٹ کو اہم رپورٹ

دہلی / کولکاتہ: مغربی بنگال کے SIR (خصوصی گہری نظرثانی) معاملے میں پیر کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی، جہاں ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ دوپہر 12 بجے تک 59 لاکھ 15 ہزار ’غور طلب‘ ووٹرز کے ناموں کا تصفیہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اطلاع ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوجوئے پال نے خط کے ذریعے دی، جسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے سماعت کے دوران ریکارڈ پر رکھا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے یہ بھی بتایا کہ مرشد آباد اور مالدہ جیسے حساس اضلاع میں تمام زیر غور ناموں کا تصفیہ مکمل کر لیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق ان دونوں اضلاع میں تقریباً 8 لاکھ اعتراضات موصول ہوئے تھے، لیکن اب وہاں کوئی کام باقی نہیں بچا۔اگرچہ عدالت نے ناموں کے اخراج کے معاملے میں اپیل ٹربیونل پر اعتماد ظاہر کیا، لیکن آج کی سماعت میں ایک بار پھر ٹربیونل کے بنیادی ڈھانچے، شفافیت اور سہولیات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اگر اپیل ٹربیونل مناسب سمجھے تو میٹرک (ثانوی) سرٹیفکیٹ سمیت دیگر دستاویزات کو بھی بطور ثبوت دیکھ سکتا ہے۔اس معاملے کی اہمیت اس لیے اور بڑھ گئی ہے کیونکہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں اب صرف چند دن باقی ہیں، اور اب بھی یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ 60 لاکھ زیر غور ناموں میں سے کتنے نام آخرکار ووٹر فہرست میں برقرار رکھے گئے اور کتنے خارج کر دیے گئے۔عدالت میں یہ بھی سوال اٹھا کہ جن ووٹروں کے نام خارج کیے جا رہے ہیں، ان کے لیے مؤثر اپیل کا راستہ واقعی کتنا آسان اور قابلِ رسائی ہے؟ کیونکہ کئی علاقوں میں ٹربیونل کے قیام اور اس کے عملی ڈھانچے کو لے کر پہلے ہی خدشات ظاہر کیے جا چکے ہیں۔سماعت کے دوران مینکا گروسوامی نے نندلال باسو کے پوتے کا معاملہ بھی چیف جسٹس کے سامنے رکھا اور کہا کہ کئی ایسے نام بھی خارج کیے جا رہے ہیں جن کے بارے میں عوام کو شدید اعتراض ہے۔ اس سے صاف اشارہ ملا کہ معاملہ صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ زمینی سطح پر حقیقی ووٹروں کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔وکیل شیام نے عدالت کو بتایا کہ 60 لاکھ کیسز میں سے اب تک 44 لاکھ کیسز کی معلومات سامنے آ چکی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 55 فیصد کیسز میں نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 45 فیصد کیسز میں نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نام خارج ہونے کی شرح کافی زیادہ ہے، جس پر عدالت اور وکلا دونوں نے تشویش ظاہر کی۔اس کے علاوہ، عدالت کی توجہ ٹربیونل میں اپیل دائر کرنے کے لیے صبح سے لمبی قطاروں میں کھڑے لوگوں کی مشکلات کی طرف بھی دلائی گئی۔ وکلاء نے کہا کہ عوام کو نہ صرف پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے بلکہ بنیادی سہولیات کی بھی کمی ہے، جس سے انصاف تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ سپریم کورٹ اس پورے عمل کو مزید شفاف، آسان اور منصفانہ بنانے کے لیے کیا نئی ہدایات جاری کرتی ہے۔ کیونکہ ووٹر فہرست کا یہ معاملہ براہِ راست لاکھوں لوگوں کے حقِ رائے دہی سے جڑا ہوا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات