شبھیندو ادھیکاری ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب؛حلف برداری آج
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ :مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ بی جے پی نے باضابطہ طور پر شوبھند و ادھیکاری کو ریاست کا نیا وزیر اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ جمعہ کو کولکاتہ میں پارٹی کی اہم میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بسوا بنگلہ کنونشن سنٹر میں صحافیوں کے سامنے ان کے نام کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے شوبھند و ادھیکاری کے علاوہ کسی اور نام کی تجویز نہیں دی گئی۔جیسے ہی ان کے نام کا اعلان ہوا، شوبھند و ادھیکاری جذباتی ہو گئے اور ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ انہوں نے اسٹیج پر ہی امت شاہ کا ہاتھ پکڑ کر شکریہ ادا کیا۔ سیاسی حلقوں میں یہ لمحہ بی جے پی کی بنگال میں تاریخی کامیابی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شوبھند و ادھیکاری پہلے ہی وزیراعلیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار مانے جا رہے تھے۔ 26 ویں اسمبلی انتخابات میں انہوں نے نہ صرف نندی گرام بلکہ بھوانی پور میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی، جہاں انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ ممتابنرجی کو شکست دے کر بنگال کی سیاست میں بڑا سیاسی بھونچال پیدا کر دیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق شوبھند و ادھیکاری کی مسلسل سیاسی محنت، تنظیمی صلاحیت اور مرکزی قیادت کے ساتھ مضبوط تال میل نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔ 2020 میں ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سے وہ پارٹی کے سب سے جارحانہ اور متحرک چہرے بن کر سامنے آئے۔
انہوں نے نہ صرف تنظیم کو گاؤں گاؤں تک مضبوط کیا بلکہ پارٹی کارکنوں کو دوبارہ سرگرم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ نریندرمودی اورامت شاہ نے بنگال میں پارٹی کی تاریخی جیت کا کریڈٹ بڑی حد تک شوبھند و ادھیکاری کی سیاسی حکمت عملی اور محنت کو دیا ہے۔ اسی اعتماد کے تحت انہیں اگلے پانچ سال تک ریاست کی قیادت سونپی گئی ہے۔شوبھند و ادھیکاری ہفتہ کو بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں ایک عظیم الشان تقریب میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ وہ مغربی بنگال کے نویں وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ اطلاع کے مطابق ریاست کو دو نائب وزیر اعلیٰ بھی مل سکتے ہیں، تاہم ان ناموں کا ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ادھر بی جے پی نے 207 نشستیں جیت کر دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی ہے، جس کے بعد حکومت سازی کی راہ مکمل طور پر صاف ہو گئی ہے۔ اب پارٹی کی جانب سے راج بھون جا کر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا جائے گا، جس کے بعد نئی حکومت باضابطہ طور پر اقتدار سنبھال لے گی۔
