الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں پولیس تبادلوں پر رپورٹ طلب کر لی
کولکاتہ، 16 مارچ (یو این آئی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد، الیکشن کمیشن نے ریاستی انتظامی مشینری کی نگرانی سخت کرتے ہوئے پولیس افسران کے حالیہ تبادلوں پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔کمیشن نے اپنے خط میں ریاستی پولیس سے 28 فروری کے بعد تبدیل کیے گئے تمام پولیس افسران کی فہرست مانگی ہے اور ان کے سرکاری تبادلے کے احکامات کی کاپیاں بھی فراہم کرنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ کیا کسی ریٹائرڈ پولیس افسر کو کسی عہدے پر تعینات کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں واضح معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ریاستی پولیس نے کمیشن کو رپورٹ پیش کی ہے یا نہیں۔یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب الیکشن کمیشن نے ایک دن پہلے ہی مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔ ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں پر پولنگ دو مرحلوں میں کرائی جائے گی، جسے حالیہ برسوں میں ریاست کے لیے نسبتاً مختصر انتخابی شیڈول سمجھا جا رہا ہے۔انتخابی تاریخوں کے اعلان کے فوراً بعد، کمیشن نے انتخابات سے قبل لیے گئے اہم انتظامی فیصلوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ایڈیشنل چیف الیکشن افسر نے اتوار کے روز ریاستی پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (قانون) اور پولیس کے نوڈل افسر کو خط لکھ کر تبادلوں کی مکمل تفصیلات طلب کیں۔ایک اور خط میں، کمیشن نے ریاستی پولیس سے ان افسران کے نام بھی مانگے ہیں جو گزشتہ انتخابات کے دوران بدامنی یا تشدد کے وقت مختلف تھانوں کے انچارج تھے۔ اس میں 2021 کے اسمبلی انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے، دوران اور بعد میں ہونے والے واقعات سے وابستہ افسران کی معلومات مانگی گئی ہیں۔ کمیشن نے یہ فہرست پیر کی شام چار بجے تک فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔اسی دوران، الیکشن کمیشن نے انتخابات سے قبل انتظامی سطح پر کئی اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ کمیشن نے ریاست کے دو اعلیٰ افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ چیف سکریٹری نندنی چکرورتی اور ہوم سکریٹری جگدیش پرساد مینا کو اتوار کی دیر رات ان کے عہدوں سے سبکدوش کر دیا گیا۔کمیشن نے دشمنت ناریا ل کو نیا چیف سکریٹری مقرر کیا ہے، جبکہ سنگھمترا گھوش کو نیا ہوم سکریٹری بنایا گیا ہے۔ دونوں افسران کو پیر کی دوپہر تین بجے تک اپنے اپنے عہدوں کا چارج سنبھالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان واقعات سے اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن ریاست کے انتظامی ڈھانچے اور پولیس کے نظام پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔



