Sunday, February 8, 2026
ہومSportsقسمت، محنت اور موقع جب ایک ساتھ آ جائیں، تو ہیرو راتوں...

قسمت، محنت اور موقع جب ایک ساتھ آ جائیں، تو ہیرو راتوں رات جنم لیتے ہیں

ممبئی، 8 فروری (یو این آئی ) تیز گیند باز محمد سراج چند گھنٹوں میں ایسے کرکٹ ہیرو بن کر ابھرے جن کا تصور خود انہوں نے بھی نہیں کیا تھا، جرمنی میں طویل تعطیلات اور اسپین میں ریئل میڈرڈ کا میچ دیکھنے کے منصوبے بنانے والے سراج کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اگلے ہی دن وہ ہندوستان کی مشکل جیت کے سب سے بڑے معمار ہوں گے، حیدرآباد میں دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے منصوبوں کے دوران جب ہندوستانی ٹیم کے ٹرینر ایڈرین لی روکس کا فون آیا تو سراج نے ڈسٹرب نہ کرنے کی درخواست کی۔جمعہ کی رات تک ممبئی جانا ان کے منصوبوں میں شامل ہی نہیں تھا۔ مگر محض چوبیس گھنٹوں کے اندر وہ امریکی ٹیم کے خلاف ہندوستانی کی سنسنی خیز فتح کے غیر متوقع اسٹار بن گئے۔سراج نے بتایا،اچانک سوریہ بھائی (کپتان سوریہ کمار یادو) کا فون آیا۔ انہوں نے کہا، ’تیار ہو جاؤ، بیگ پیک کرو اور فوراً آؤ۔‘ میں نے کہا، ’سوریہ بھائی مذاق مت کیجیے۔‘ لیکن انہوں نے کہا،میں سچ کہہ رہا ہوں۔‘ فون رکھتے ہی سلیکٹر پرگیان اوجھا کا کال آیا اور مجھے زبردست جھٹکا لگا۔چوٹیل ہرشیت رانا کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے کے لیے سراج کے پاس نہ تیاری کا وقت تھا، نہ ذہنی تیاری کا موقع۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔”سراج نے کہا ،جو خدا نے لکھ دیا ہو، اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ میں آیا، میچ کھیلا سب کچھ پہلے سے لکھا تھا۔ خدا عظیم ہے،۔براہِ راست پلیئنگ الیون میں شامل کیے جانے کے بعد سراج نے نئی گیند سے ایسا زبردست اسپیل کیا جو شاید ہی کوئی کرکٹر کر پاتا۔ 161 رنز کے معمولی ہدف کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے ابتدائی اوورز میں ہی امریکی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔امریکہ کا اسکور 11 رنز پر دو وکٹیں اور پھر 13 رنز پر تین وکٹیں ہو گیا۔ میچ حقیقت میں پہلے چار اوورز میں ہی فیصلہ ہو چکا تھا۔
سراج نے 29 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور آخری گیند پر بھی وکٹ لے کر اپنی شاندار کارکردگی پر مہر ثبت کر دی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سراج نے 18 ماہ سے کوئی ٹی20 میچ نہیں کھیلا تھا۔ ان کا آخری ٹی20 جولائی 2024 میں سری لنکا کے خلاف تھا۔ وہ یہ مان چکے تھے کہ وہ ورلڈ کپ مہم کا حصہ نہیں ہوں گے اور انہوں نے ٹیم مینجمنٹ سے آرام کی درخواست بھی کی تھی، کیونکہ وہ حال ہی میں حیدرآباد کی قیادت کرتے ہوئے رنجی ٹرافی کھیل کر آئے تھے۔سراج نے بعد میں کہا۔یہ واپسی کسی پریوں کی کہانی سے کم نہیں۔ محدود وقت میں ٹیم میں شمولیت، بغیر تیاری کے بڑا میچ اور جسپریت بمراہ کی غیر موجودگی میں ذمہ داری—ان سب کے باوجود سراج نے ثابت کیا کہ وہ بڑے مواقعوں کے کھلاڑی ہیں۔18 ماہ کا وقفہ ان کے لیے رکاوٹ نہیں بنا۔ 100 سے زائد بین الاقوامی میچز اور تقریباً 10 سال کے بین الاقوامی تجربے نے ان کا ساتھ دیا۔”جب موقع ملتا ہے تو تجربہ کام آتا ہے۔ میں جانتا تھا کہ خود کو کیسے تیار کرنا ہے اور ذہن کو کیسے سیٹ کرنا ہے۔ میں نے وہی ہتھیار استعمال کیا جس نے مجھے ہمیشہ کامیابی دی ہے،” سراج نے کہا۔انہوں نے نئی گیند سے وہی لائن اور لینتھ اپنائی جو وہ رنجی ٹرافی میں کرتے ہیں۔”مجھے لگا نئی گیند کو ہٹ کرنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے میرا پلان وکٹ ٹو وکٹ گیند بازی کرنا تھا۔ اگر شروع میں وکٹ مل جائے تو ٹیم کو بہت فائدہ ہوتا ہے اور یہی ہوا۔”سراج نے اپنے نیو بال پارٹنر ارشدِیپ سنگھ کی بھی بھرپور تعریف کی، جنہوں نے پاور پلے میں زبردست دباؤ بنایا۔”خاص طور پر ارشدِیپ کا ایگزیکیوشن شاندار تھا۔ ان کے تین اوورز نے میچ کا رخ بدل دیا،”یوں محمد سراج نے ثابت کر دیا کہ قسمت، محنت اور موقع جب ایک ساتھ آ جائیں، تو ہیرو راتوں رات جنم لیتے ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات