ریاض ،15 جنوری (یو این آئی ) سعودی کلب الاتحاد کے صدر انمار الحائلی نے فٹ بال کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچا دی جب انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ لیونل میسی کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انمار الحائلی کے مطابق، میسی کو ایک ایسی پیشکش کی گئی ہے جس کی مثال کھیلوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔الاتحاد کے صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے میسی کو ایک طرح سے ‘بلینک چیک‘ کی پیشکش کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا”اگر میسی الاتحاد کے ساتھ معاہدے پر راضی ہو جائیں، تو وہ اپنی مرضی کی رقم کنٹریکٹ میں درج کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم انہیں زندگی بھر (Lifetime) کے لیے معاہدے کی پیشکش کرنے کو بھی تیار ہیں۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سعودی عرب سے میسی کو خطیر رقم کی پیشکش ہوئی ہو۔ انمار الحائلی نے اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں میسی کو 4.1ارب یورو (تقریباً 5.1 ارب ڈالر) کی پیشکش کر چکے ہیں۔میسی نے اس بھاری رقم کو ٹھکراتے ہوئے اپنی فیملی اور بچوں کے مستقبل کو ترجیح دی تھی اور امریکی کلب انٹر میامی کا انتخاب کیا تھا۔حالیہ رپورٹس کے مطابق، میسی نے حال ہی میں انٹر میامی کے ساتھ اپنے معاہدے میں توسیع کی ہے، جس کے تحت وہ 2028 تک میامی کی ‘پنک جرسی‘ میں نظر آئیں گے۔ تاہم، سعودی کلب کے صدر کا ماننا ہے کہ دنیا کے بہترین کھلاڑی کو ٹیم میں لانا ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے، اسی لیے وہ اب بھی پُرامید ہیں۔لیونل میسی اس وقت میامی میں اپنے نئے اسٹیڈیم کی افتتاحی تقریب کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب سے آنے والی اس “اوپن آفر” نے ایک بار پھر ان کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔



