ڈھاکہ،12 مئی (یواین آئی ) پاکستانی کرکٹ کے مداحوں کے لیے ایک بار پھر وہی پرانی کہانی، وہی مایوسی اور وہی شرمناک انجام! ڈھاکہ ٹیسٹ کے آخری روز بنگلہ دیشی بولرز نے پاکستانی بیٹنگ لائن کی دھجیاں اڑا دیں اور پاکستان کو 104 رنز کی ذلت آمیز شکست کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔268 رنز کا ہدف، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ناممکن نہیں تھا، پاکستانی بلے بازوں کے لیے کسی ہمالیہ کی چوٹی سے کم ثابت نہ ہوا۔ پوری ٹیم تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی اور محض 163 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ صرف 3 رنز پر پہلی وکٹ گرنے سے جو تباہی شروع ہوئی، وہ اختتام تک نہ تھم سکی۔شان مسعود محض 2 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، جس نے مڈل آرڈر پر دباؤ کے پہاڑ کھڑے کر دیے۔عبداللہ فضل نے 66 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیل کر عزت بچانے کی کوشش ضرور کی، لیکن دوسرے اینڈ سے کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہ تھا۔سلمان علی آغا 26، محمد رضوان، سعود شکیل اور اذان اویس 15، 15 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ نمعمان علی 4، امام الحق اور کپتان شان مسعود 2، 2، حسن علی ایک اور شاہین آفریدی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے ناہید رانا نے 5، تیج الاسلام اور تسکین احمد نے 2، 2 جبکہ مہدی حسن میراز نے ایک وکٹ حاصل کی۔بنگلہ دیش نے کھیل کے پانچویں روز اپنی دوسری اننگز 240 رنز پر ڈکلیئر کر کے پاکستان کو جال میں پھنسایا۔ نجم الحسن شنتو (87) اور مومن الحق (56) نے پاکستانی بولرز کو بے بس کر دیا تھا۔ اگرچہ نعمان علی نے میچ میں اپنی 100 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کیں، لیکن ان کی یہ تاریخی کامیابی ٹیم کی شکست کے ملبے تلے دب کر رہ گئی۔ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرنے والے کپتان کا پانسہ الٹا پڑ گیا۔ پہلی اننگز میں 413 رنز کھانے کے بعد، پاکستان نے بھرپور جواب تو دیا تھا، لیکن دوسری اننگز میں بلے بازوں کی “غیر ذمہ دارانہ” بیٹنگ نے ایک جیتا ہوا میچ بنگلہ دیش کی جھولی میں ڈال دی۔نجم الحسن شنتو مین آف دی میچ قرار پائے۔
