انگلینڈ کو شکست دیکر سیریز 1-4 سے اپنے نام کر لی
سڈنی، 8 جنوری (یو این آئی) آسٹریلیا نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایشیز سیریز 1۔4 سے اپنے نام کر لی، جس سے ان کا دبدبہ ایک بار پھرثابت ہو گیا۔سیریز کےآخری دن انگلینڈ نے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 160 رنز کا نشانہ دیا۔ آسٹریلیا نے 31.2 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 161 رنز بنا لیے۔ ایلیکس کیری نے شاندار باؤنڈری کے ذریعے میچ اور سیریز دونوں پر جیت کی مہر ثبت کی۔اس سے قبل جیکب بیتھل کی شاندار 154 رنز کی اننگز کے باوجود انگلینڈ اپنی دوسری اننگز میں 342 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ ان کی لمبی اور شاندار اننگز پر شائقین نے کھڑے ہو کر داد دی۔ مچیل اسٹارک نے ایک بار پھر فیصلہ کن وکٹ حاصل کی اور سیریز 31 وکٹوں کے ساتھ ختم کی۔عثمان خواجہ (6)، اسٹیو اسمتھ (12) اور لبوشین (37) کے آؤٹ ہونے سے آسٹریلیا کا تعاقب کچھ دیر کے لیے لڑکھڑا گیا لیکن کیمرون گرین (ناٹ آؤٹ 22) کی شاندار اسٹروک پلے اور کیری (ناٹ آؤٹ 16) کے تحمل نے جیت کو یقینی بنایا ۔ ٹریوس ہیڈ کو ٹیسٹ میں ان کے شاندار کھیل پر پلیئر آف دی میچ منتخب کیا گیا جبکہ اسٹارک کو بہترین کارکردگی پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔سیریز کا فیصلہ دراصل بہت پہلے ہی ہو چکا تھا جب آسٹریلیا نے پہلے تین ٹیسٹ جیت کر محض 11 دنوں کے اندر ایشیز اپنے پاس برقرار رکھ لی تھی۔پرتھ میں کھیلے گئے افتتاحی ٹیسٹ میں انگلینڈ پہلے ہی دن 172 رنز پر آؤٹ ہو گیا۔ مچل اسٹارک نے سات وکٹیں لے کر مہمان ٹیم کو پویلین واپس بھیج دیا۔پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کے بعد انگلینڈ نے کچھ سبقت بنائی لیکن دوسری اننگز میں ان کی جارحانہ بیٹنگ کا رخ الٹا پڑ گیا۔ عثمان خواجہ کے زخمی ہونے کے باعث آسٹریلیا کو ٹریوس ہیڈ کے ساتھ اوپننگ کرنی پڑی اور یہی قدم سیریز کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا۔ ہیڈ نے 69 گیندوں پر سنچری بنائی اور آسٹریلیا دو دن کے اندر 1-0 سے سبقت لے گیا۔برسبین میں دوسرے ٹیسٹ میں اسٹارک نے پنک بال سے اپنی وکٹوں کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے پہلے دن چھ وکٹیں حاصل کیں۔ جو روٹ نے آسٹریلیا میں اپنا پہلا ٹیسٹ سنچری اسکور کیا لیکن انگلینڈ کی فیلڈنگ نے انہیں مایوس کیا کیونکہ پانچ کیچ چھوڑ دیے گئے جس سے آسٹریلیا کو 177 رنز کی برتری مل گئی۔ول جیکس اور بین اسٹوکس کے نسبتاً محتاط انداز نے انگلینڈ کی شکست کو کچھ دیر کے لیے ٹال دیا لیکن جوفرا آرچر اور اسمتھ کے درمیان زبردست مقابلہ بالآخر آسٹریلیا کے حق میں رہا اور میزبان ٹیم 2-0 سے آگے ہو گئی۔ایڈیلیڈ میں تیسرے ٹیسٹ میں پیٹ کمنز کپتان کے طور پر واپس آئے جبکہ اسمتھ نہیں کھیل سکے، جس کے باعث عثمان خواجہ کو دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اگرچہ آرچر نے پانچ وکٹیں حاصل کی لیکن کیری نے شاندار کاؤنٹر اٹیکنگ سنچری اسکور کر کے سب کی توجہ حاصل کر لی۔انگلینڈ نے پہلی اننگز میں آٹھ وکٹ کے نقصان پر168 رنز کے بعد واپسی کی، اسٹوکس کی سب سے سست ٹیسٹ ففٹی اور آرچر کی پہلی ففٹی کی بدولت لیکن دوسری اننگز میں ہیڈ اور کیری کے درمیان 162 رنز کی اہم شراکت نے انگلینڈ کو 400 سے زائد کا ہدف دیا۔ مہمان ٹیم نے مقابلہ کیا مگر آسٹریلیا کے سینئر بالرز نے وکٹیں لے کر اسکور 3-0 کر دیا۔انگلینڈ نے بالآخر میلبورن میں چوتھے ٹیسٹ میں وائٹ واش سے بچاؤ کر لیا۔ اگرچہ ایشیز پہلے ہی ہاتھ سے جا چکی تھی، اسٹوکس نے مضبوط جواب دینے کا وعدہ کیا تھا اور انگلینڈ نے ایسا ہی کر دکھایا۔ایم سی جی کی گرین پچ پر جوش ٹنگ نے پانچ وکٹیں لے کر آسٹریلیا کو 152 رنز پر آؤٹ کر دیا جبکہ خود انگلینڈ بھی ایک سنسنی خیز مقابلے میں 110 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔
ایک بالر کی کمی کے باوجود انگلینڈ نے آسٹریلیا کو دوبارہ 132 رنز پر آؤٹ کیا اور پھر معمولی ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچوں میں 18 میچوں کی شکست کے سلسلے کو توڑ دیا۔
یہ میچ بھاری گھاس والی پچ پر کھیلا گیا، جہاں دونوں ٹیموں کی بیٹنگ تکنیک اور مزاج پر تنقید ہوئی۔لیکن آسٹریلیا نے سڈنی میں ایک بار پھر کنٹرول حاصل کیا اور سیریز کو شاندار انداز میں ختم کیا اوراسٹارک، ہیڈ اور کیری کی زبردست کارکردگی کی بدولت میزبان ٹیم نے اپنے گھر میں دوبارہ اپنی برتری ثابت کی ۔



