
ملک کی کئی ریاستوں میں آیوشمان بھارت اسکیم میں بڑا گھوٹالہ
نئی دہلی، 4 اپریل:۔ (ایجنسی) آیوشمان بھارت اسکیم میں ایک بڑا گھوٹالہ سامنے آیا ہے، جہاں مردہ مریضوں کے علاج کے نام پر کروڑوں روپے کا غیر قانونی ادائیگی کی گئی ہے۔کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی رپورٹ کے مطابق، ملک کے23 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں3466 مردہ مریضوں کا علاج دکھا کر حکومت سے6.97 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔
جھارکھنڈ پانچویں نمبر پر
یہ کارنامہ انجام دینے والوں میں کیرالہ کا نام سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر مدھیہ پردیش، تیسرے نمبر پر چھتیس گڑھ، چوتھے نمبر پر ہریانہ اور پانچویں نمبر پر جھارکھنڈ ہے۔ اس سے پہلےکیرالہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور ہریانہ میں بھی اس طرح کی سنگین دھاندلیاں سامنے آچکی ہیں۔
خرابی کہاں ہوئی؟
سی اے جی کی تحقیقات میں پتہ چلا کہ ٹرانزیکشن مینجمنٹ سسٹم (TMS) میں کوئی ایسا سسٹم نہیں تھا جو یہ یقینی بنائے کہ مرنے والے مریضوں کا دوبارہ اندراج نہ ہو۔ اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، مختلف اسپتالوں نے پہلے سے مر چکے مریضوں کو دوبارہ سسٹم میں اپ لوڈ کر کے ادائیگی حاصل کر لی۔
ریاست وار مردہ مریضوں کا علاج اور ادائیگی
ریاست—مردہ مریضوں کی تعداد —ادائیگی (کروڑ روپے میں)
کیرالہ — 966 — 2.60
مدھیہ پردیش — 403 1.12
چھتیس گڑھ — 365 — 0.33
ہریانہ — 354 — 0.54
جھارکھنڈ — 250 — 0.30
حکومت نے دی تحقیقات کی ہدایت
اس گھوٹالے کے بعد، متعلقہ ریاستوں کی حکومتوں نے تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہآیوشمان بھارت جیسی بڑی اسکیم میں ایسی بدعنوانیاں عوامی فنڈز کی بربادی اور مستحق افراد کے حقوق کی پامالی کے مترادف ہیں۔ یہ معاملہ حکومت اور صحت عامہ کے نظام کے لیے ایکسنگین وارننگ ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔
