ضمانت مسترد ہونے پر شرجیل امام کا بیان
نئی دہلی، 7 جنوری:۔ (ایجنسی)2020 دہلی فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش سے متعلق ایک کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت سے انکار کے بعد، کارکن شرجیل امام نے منگل کو کہا کہ وہ اس معاملے کے حوالے سے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’بالآخر سچائی ہی غالب آئے گی‘‘۔ اپنے بھائی مزمل امام کے ذریعے شیئر کی گئی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں شرجیل امام نے دیگر پانچ افراد کو ضمانت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے اتنے عرصے سے ان پانچوں ضمانت یافتہ ملزمان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی مذمت بھی کی۔ شرجیل امام نے کہا،’’مجھے پختہ یقین ہے کہ عمر اور مجھے حالیہ ہندوستانی تاریخ میں سب سے اہم عوامی احتجاج کو منظم کرنے اور اس کی قیادت کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ منظم احتجاج کو مجرمانہ عمل قرار دیتا ہے اور رکاوٹ کو دہشت گردانہ کارروائی کے طور پر دیکھتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ذاتی سطح پر وہ صرف اپنی بوڑھی والدہ کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں۔انہوں نے مزید لکھا، ’’اس کے علاوہ، میں اس کیس کے بارے میں پرامید ہوں اور مجھے یقین ہے کہ بالآخر سچ ہی غالب آئے گا۔ ان شاء اللہ، ہم کامیاب ہوں گے۔ تب تک میں اپنے فکری اور علمی سفر کو، جس حد تک ممکن ہو، آگے بڑھاتا رہوں گا۔‘‘ شرجیل امام نے اپنی پوسٹ میں ایک شعر بھی درج کیا:
دل نااُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پیر کے روز کارکنوں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کر دی تھی، جبکہ اسی کیس میں پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے مشاہدہ کیا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام استغاثہ اور شواہد کے معاملے میں ’’معیاری طور پر مختلف بنیادوں‘‘ پر کھڑے ہیں۔ ضمانت پانے والے چار افراد نے منگل کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت میں اپنے ضمانتی مچلکے جمع کرائے۔ اس دوران ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ چاروں افراد کی ضمانتوں کی تصدیق کرے اور بدھ تک تصدیقی رپورٹ پیش کرے۔ گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفاالرحمان اور محمد سلیم خان نے منگل کو اپنے ضمانتی مچلکے جمع کرائے تھے۔ عدالت تصدیقی رپورٹ داخل ہونے کے بعد بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کو ضمانت دیتے ہوئے دو لاکھ روپے کے ذاتی ضمانتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے دو ضامن پیش کرنے کی شرط عائد کی تھی، ساتھ ہی پاسپورٹ جمع کرانے سمیت دیگر شرائط بھی مقرر کی گئی تھیں۔ عدالت عظمیٰ نے گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفاالرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جرم، اگر کوئی ہے، تو وہ محدود نوعیت کا ہے۔ تاہم عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کو اسی طرح کی راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل نتاشا ناروال، دیونگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو بھی ضمانت دی جا چکی ہے، جبکہ عشرت جہاں کو بھی پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔



