Wednesday, February 18, 2026
ہومNationalمدھیہ پردیش اسمبلی میں ساڑھے چار لاکھ کروڑ کے قریب بجٹ پیش،...

مدھیہ پردیش اسمبلی میں ساڑھے چار لاکھ کروڑ کے قریب بجٹ پیش، کوئی نیا ٹیکس نہیں

بھوپال، 18 فروری (یو این آئی) مدھیہ پردیش اسمبلی میں آج وزیر خزانہ جگدیش دیوڑا نے تقریباً 4 لاکھ 38 ہزار 317 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں کسی نئے ٹیکس کی تجویز شامل نہیں ہے۔بجٹ 27-2026 میں ’ریونیو سرپلس‘ 44.42 کروڑ روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ سال 27-2026 میں ریاست کی مجموعی جی ایس ڈی پی کا تخمینہ 18 لاکھ 48 ہزار 274 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10.69 فیصد زیادہ ہے۔اپنے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے طویل بجٹ خطاب کے آغاز میں دیوڑا نے واضح کیا کہ بجٹ کا مرکزی محور ’’گیانی‘‘ (غریب، نوجوان، اَنّ داتا اور ناری شکتی) ہے، جس کے ساتھ صنعت کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو بھی جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش نے اس بار رولنگ بجٹ پیش کیا ہے، جس میں 2026-27 کے بجٹ تخمینے کے ساتھ 2027-28 اور 2028-29 کے رولنگ تخمینے بھی شامل کیے گئے ہیں اور ایسا کرنے والی یہ ملک کی پہلی ریاست ہے۔سنگھ ستھ میلے سے متعلق کاموں کے لیے 13,851 کروڑ روپے کے کام منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے رواں سال کے لیے 3,060 کروڑ روپے مختص ہیں۔ زرعی بجٹ کے لیے 1,15,013 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں نہ کوئی نیا ٹیکس لگایا گیا ہے اور نہ ہی موجودہ ٹیکس شرحوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ میں جنگلاتی زمین سے تجاوزات ہٹا کر شجرکاری کے لیے نئی ’’سمردھی ون‘‘ اسکیم، لکڑی کی ضرورت پوری کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے نجی زمین پر شجرکاری کی زرعی جنگلاتی اسکیم اور روحانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ’’قبائلی دیو لوک جنگلات تحفظ اسکیم‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ’’دواریکا اسکیم‘‘ بھی تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت آئندہ تین برسوں میں 5 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔بجٹ میں مکھی منتری لاڑلی بہنا اسکیم کے لیے 23 ہزار 883 کروڑ روپے، ’’وکست بھارت روزگار و اجیویکا مشن (دیہی)‘‘ کے تحت 10 ہزار 428 کروڑ روپے اور جل جیون مشن (رورل ڈرنکنگ واٹر مشن) کے تحت 4 ہزار 454 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ قومی صحت مشن کے لیے 4 ہزار 600 کروڑ روپے اور سرکاری پرائمری اسکولوں کے قیام کے لیے 11 ہزار 444 کروڑ روپے کا بندوبست کیا گیا ہے۔وزیرِ خزانہ نے بجٹ میں حکومت کی کامیابیاں بھی گنوائیں اور کہا کہ مدھیہ پردیش دودھ کی پیداوار میں ملک کی تیسری بڑی ریاست ہے۔ انہوں نے ریاست سے نکسل ازم کے خاتمے کا بھی ذکر کیا۔پورے بجٹ خطاب کے دوران اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کے اراکین اسمبلی کی جانب سے احتجاج اور شور شرابہ جاری رہا۔ قائدِ حزبِ اختلاف امنگ سنگھار نے بجٹ کو ’’جھوٹ کا پلندہ‘‘ قرار دیتے ہوئے روزگار کے مواقع کم ہونے کا الزام لگایا۔ کانگریس کے ایک اور رکن اسمبلی اونکار سنگھ مرکام بجٹ خطاب کے دوران علامتی طور پر کٹورا لے کر اسپیکر کی کرسی کے قریب پہنچ گئے، جس پر اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے اعتراض کرتے ہوئے انہیں بجٹ خطاب مکمل ہونے کے بعد بات رکھنے کی ہدایت دی۔وزیرِ خزانہ کے خطاب کے بعد اسپیکر تومر نے بجٹ پر بحث کے لیے 20 فروری کی تاریخ مقرر کی، جس کے بعد ایوان کی کارروائی جمعرات کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات