نئی دہلی، 31 جنوری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت سے شراب کی دکانوں اور اسکولوں سمیت حساس عوامی مقامات کے درمیان کم از کم فاصلے میں کمی کرنے کے فیصلے پر جواب طلب کیا ہے۔جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح پر مشتمل بنچ نے جمعہ کو کہا کہ ریاست کا یہ قدم قانونی مداخلت کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔عدالت نے کہا کہ بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ اتر پردیش حکومت نے سابقہ فیصلے کی بنیاد کو ختم کیے بغیر متعلقہ ضابطوں میں ترمیم کر کے سپریم کورٹ کے ایک لازمی اور پابند فیصلے کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔بنچ نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ریاست اتر پردیش نے عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے اور ہائی کورٹ نے اس کے برعکس فیصلہ دے کر غلطی کی ہے۔ اس عدالت کے ایک پابند فیصلے کو ضابطہ بنانے والا اختیار اس کی بنیاد کو ختم کیے بغیر غیر مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا اور پوچھا کہ جس طرح اتر پردیش ایکسائز (شراب کی دکانوں کی تعداد اور مقام) قواعد، 1968 کے قاعدہ 5(4) میں ترمیم کی گئی ہے، اسے قانونی مداخلت قرار دے کر منسوخ کیوں نہ کر دیا جائے؟سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو سات دن کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سنگین عوامی مفاد سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ہم اتر پردیش ریاست کو خود نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رہے ہیں۔یہ حکم اتر پردیش ریاست کی ایک سول اپیل پر دیا گیا، جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 2 فروری 2010 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے میں 2008 میں ترمیم شدہ 1968 کے ضابطے کے قاعدہ 5(4) کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔اگرچہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس ترمیم کو غیر قانونی قرار دیا تھا، لیکن اس نے یہ مانا تھا کہ یہ ترمیم سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی توہین نہیں ہے، جس میں کم از کم فاصلے کی حد زیادہ مقرر کی گئی تھی۔



