ہومNationalآبنائے ہرمز بحران -بھارت کے پرانے روابط نئی سفارتی راہ دکھا رہے...

آبنائے ہرمز بحران -بھارت کے پرانے روابط نئی سفارتی راہ دکھا رہے ہیں

نئی دہلی۔ 30؍ مارچ۔ ایم این این۔ خلیج میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان بھارت کے تاریخی اور متوازن سفارتی روابط ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئے ہیں، جو اسے ایک منفرد پوزیشن میں لا کھڑا کرتے ہیں۔تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن چکی ہے، جہاں توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں بھارت کے ایران، خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کے ساتھ پرانے اور متوازن تعلقات اسے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے، رابطہ کاری اور استحکام میں کردار ادا کر سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ خطے میں ’’اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے، جس کے تحت وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تمام فریقین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا آیا ہے۔ یہی حکمت عملی آج کے بحران میں اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ماہرین کے مطابق، ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات، توانائی کے مفادات اور خلیجی ممالک میں بھارتی برادری کی بڑی موجودگی بھارت کو ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد شراکت دار بناتی ہے، جو صرف تماشائی نہیں بلکہ ایک ممکنہ ثالث یا سہولت کار کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر، رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ بھارت کے پرانے سفارتی روابط اور متوازن خارجہ پالیسی اسے اس بحران میں نہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ بلکہ علاقائی استحکام کے فروغ میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات