توہین عدالت کی وارننگ
ممبئی ، 10 اپریل (یو این آئی)بامبے ہائی کورٹ نے کاندیولی (مشرقی) میں ایک مسجد سے مبینہ شور کی شکایت پر کارروائی نہ ہونے کے معاملے میں ممبئی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ عدالت کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔جسٹس اجے ایس گڈکری اور جسٹس کمل آر کھٹا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اگر درخواست گزار کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ شور سے پیداہونےوالی آلودگی کے ضابطہ 2000 کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اس معاملے میں حلف نامہ داخل کرے۔یہ معاملہ تھاکر ولیج کی رہائشی وکیل رینا رچرڈ کی جانب سے دائر درخواست پر زیر سماعت ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے رہائشی علاقے کے قریب واقع مسجد میں صبح سویرے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے بار بار شور پیدا ہو رہا ہے، جبکہ قواعد کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی ہے۔درخواست گزار کے مطابق انہوں نے سمتا نگر پولیس اسٹیشن میں متعدد شکایات درج کرائیں، تاہم ان پر مستقل عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے حکام نے عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی اور خلاف ورزی پر مقدمات بھی درج کیے گئے تھے، لیکن بعد میں دوبارہ اجازت دی جانے لگی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ متعلقہ علاقہ “سائلنس زون” کے دائرے میں آتا ہے کیونکہ مسجد کے قریب 50 میٹر کے فاصلے پر زچگی وارڈ والا اسپتال، ایک اسکول اور کالج موجود ہیں، اس کے باوجود حکام اسے سائلنس زون تسلیم نہیں کر رہے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکام کی جانب سے “کھلی خلاف ورزی” یا غلط بیانی ثابت ہوئی تو یہ نہایت سنگین معاملہ ہوگا۔ جسٹس کھٹا نے جنوری 2025 کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کی کسی بھی جگہ خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسران توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔اسی فیصلے میں عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کسی بھی مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے، اور ریاستی حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ عبادت گاہوں سمیت تمام مقامات پر آواز کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔



