نئی دہلی، 17 اپریل (یواین آئی) لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جمعہ کے روز کہا کہ حکومت حد بندی (ڈیلِمٹیشن) کے بہانے ہندوستان کا انتخابی نقشہ تبدیل کرنا چاہتی ہے، لیکن اس سے خواتین کو حقیقی بااختیار بنانا ممکن نہیں ہوگا۔راہل گاندھی نے پارلیمانی نشستوں کی حد بندی سے متعلق بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے “ملک دشمنی” قرار دیا اور کہا کہ اپوزیشن اسے کسی صورت منظور نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے حد بندی بل 2026، آئین (ایک سو اکتیسواں ترمیمی) بل 2026 اور یونین ٹیریٹری قانون (ترمیمی) بل 2026 پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت جس طریقے سے لوک سبھا کی نشستوں کی حد بندی اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن دینا چاہتی ہے، وہ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، دلتوں اور اقلیتوں کے مفادات پر حملہ ہے۔انہوں نے حکومتی بینچوں سے کہاکہ “آپ او بی سی اور دلتوں کو ہندو تو کہتے ہیں، لیکن اقتدار میں انہیں جگہ نہیں دیتے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں او بی سی اور دلت کہاں ہیں؟ تعلیمی میدان میں محروم طبقات کہاں ہیں؟ نجی شعبے میں ان کی نمائندگی کہاں ہے؟ سرکاری شعبے سے بھی انہیں باہر کیا جا رہا ہے۔”راہل گاندھی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن دینے والا پرانا بل پیش کرے، اپوزیشن اس کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں او بی سی، دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ سخت ناانصافی ہوئی ہے اور اب اس بل کے ذریعے ان کے ساتھ دوبارہ ویسا ہی سلوک کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں کبھی اقتدار تک نہ پہنچنے دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ “منوواد آئین پر حاوی ہو رہا ہے۔”قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ حکومت عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے اور اسے معلوم ہے کہ آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہوگا۔ وہ خواتین کے ریزرویشن کے نام پر انتخابی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔وزیر اعظم کے خلاف راہل گاندھی کے بعض الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم اور ملک کی فوج کی توہین نہیں کی جانی چاہیے۔لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بھی راہل گاندھی کو تنبیہ کی کہ وہ ایسی کوئی بات نہ کہیں جو ایوان کی وقار اور ضابطے کے خلاف ہو۔
