ہومNationalحد بندی پرحزب اختلاف جماعتوں کاسخت اعترا ض

حد بندی پرحزب اختلاف جماعتوں کاسخت اعترا ض

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

حد بندی کے بعد ریاستوں کو مختص لوک سبھا سیٹوں کی تعداد میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا

نئی دہلی، 17 اپریل (یو این آئی) لوک سبھا میں جمعہ کے روز اپوزیشن جماعتوں نے حد بندی بل کی مخالفت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہ بل اسی شکل میں منظور ہو گیا تو جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کی لوک سبھا میں نمائندگی کم ہو سکتی ہے اور ان کے حقوق متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایوان میں حد بندی بل 2026، آئین (137واں ترمیمی) بل 2026 اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق قانون (ترمیمی) بل 2026 پر ادھوری بحث کا آغاز کرتے ہوئے دراوڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے) کی رکن کنی موجھی نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے حد بندی کے بعد ریاستوں کی لوک سبھا سیٹوں میں اضافے کے لیے جو فارمولا بتایا ہے اسے مستقبل میں بدلا بھی جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت حد بندی کے معاملے میں اپنا ایجنڈا نافذ کر سکتی ہے اور حد بندی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد بھی کیا جا سکتا ہے، ایسی صورت میں انصاف کہاں ملے گا؟انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی ڈی ایم کے حکومت باہمی وفاقیت پر یقین رکھتی ہے۔ ڈی ایم کے حکومت نے خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن دینے کے لیے مرکز کو خط لکھا تھا اور ڈی ایم کے کی خواتین شاخ نے اس کے حق میں دہلی میں ریلی بھی نکالی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت ہندوستانی خواتین کو بطور ڈھال استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکومت نے ایوان میں کیے گئے 80 سے 90 فی صد وعدے پورے نہیں کیے۔ حکومت باہمی وفاقیت کے اصولوں پر عمل نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے خواتین کو ریزرویشن دینے والا بل فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔کنی موجھی نے مطالبہ کیا کہ حد بندی بل کو ایک ایسی پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے جس میں تمام جماعتوں کے اراکین شامل ہوں، جو مشاورت کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جلد بازی نہ کی جائے اور پورے عمل کو کم از کم تین ماہ تک عوام کے سامنے رکھا جائے اور سب کی رائے لینے کے بعد ہی خواتین ریزرویشن کو نافذ کیا جائے۔کانگریس کے ششی تھرور نے کہا کہ مقننہ میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نظام کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے، اسے حد بندی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی سیٹوں میں اضافے کا جو فارمولا بتایا گیا ہے اسے مستقبل میں بدلا بھی جا سکتا ہے۔مسٹر تھرور نے کہا کہ اگر لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد 850 ہو گئی تو ایوان بہت بڑا اور بوجھل ہو جائے گا جس سے کارروائی چلانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ سوالیہ وقفہ اور وقفہ صفر میں تمام اراکین کو اپنی بات رکھنے کا موقع کیسے ملے گا؟ انہوں نے کہا “ہمیں ایسا فارمولہ تیار کرنا چاہیے جس سے چھوٹی ریاستوں کو بھی مناسب نمائندگی مل سکے۔ تمام متعلقہ فریقوں اور ریاستوں سے وسیع مشاورت کے بعد ہی نشستوں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ ایسا طریقہ اپنایا جائے جس سے نیا ہندوستان آپس میں تقسیم نہ ہو۔”انہوں نے مزید کہا کہ کیرالہ اور تمل ناڈو جیسے جنوبی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ ریاستیں مرکز کو نسبتاً زیادہ ریونیو فراہم کرتی ہیں، جس سے مرکزی حکومت چلتی ہے۔ ایسے میں ان ریاستوں کے ساتھ لوک سبھا نشستوں کے معاملے میں ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اس کے لیے مناسب قانونی انتظامات کیے جائیں۔انہوں نے حکومت سے کہا، “براہِ کرم قومی مفاد میں دور اندیشی کا مظاہرہ کریں، چھوٹے فائدوں پر نظر نہ رکھیں۔”وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے پی وی مدھن ریڈی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حد بندی کے عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے اور اپوزیشن جماعتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں کیونکہ خواتین کا حقیقی بااختیار بننا تبھی ممکن ہے جب ان کی حفاظت کے لیے مضبوط قانونی انتظامات موجود ہوں۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.