ممبئی کی عدالت نے کیس بند کر کے عدالتوں پر بوجھ کم کرنے کا عندیہ دیا
ممبئی، 18 جنوری :۔
(ایجنسی) ممبئی کی ایک عدالت نے 1977 میں درج 7.65 روپے کی چوری کے کیس کو 50 سال بعد بند کر دیا ہے۔ اس کیس میں شامل ملزمان اور مدعی دونوں دہائیوں سے لاپتہ تھے، اور پولیس کی تمام کوششوں کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ مجھگاؤں کورٹ کی جیوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس آرتی کلکرنی نے 14 جنوری کو کیس بند کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تقریباً نصف صدی پرانا یہ کیس بغیر کسی پیش رفت کے طویل عرصے تک زیر التوا رہا، جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے کیسز کو طویل عرصے تک زیر التوا رکھنا عدالت کے وقت اور قانونی نظام کے لیے بوجھ ہے۔
ملزمان کی بریت اور رقم کی واپسی
عدالت نے دو نامعلوم ملزمان کو انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 379 (چوری) کے تحت بری کر دیا اور ہدایت کی کہ چوری شدہ 7.65 روپے مدعی کو واپس کیے جائیں۔ اگر مدعی دستیاب نہ ہوا تو رقم اپیل کی مدت کے بعد سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کر دی جائے گی۔
قانونی پس منظر
چوری شدہ رقم 2,000 روپے سے کم ہونے کے سبب کیس کو کریمنل پروسیجر کوڈ (CrPC) کے سیکشن 260 کے تحت سمری ٹرائل کے لیے رکھا گیا، جو چھوٹے مقدمات میں جلد انصاف کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ کہا کہ اسی طرز پر 30 سال پرانے ایک اور کیس میں بھی ملزم کو باری کی گئی تھی، کیونکہ اس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا۔
عدالتوں پر بوجھ کم کرنے کی کوشش
یہ فیصلہ عدالتی نظام میں زیر التوا مقدمات کو ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد عدالتوں پر بوجھ کم کرنا اور پرانے غیر فعال مقدمات کو جلد نمٹانا ہے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4595216