مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
نئی دہلی، 05 مئی (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے فجیرہ آئل انڈسٹریز زون پر ہونے والے ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اس حملے میں تین ہندوستانی شہری زخمی ہوئے تھے انہوں نے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کو “ناقابل قبول” قرار دیا اور خطے میں استحکام کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا مسٹر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس، پر جاری ایک بیان میں کہا، “یو اے ای میں ہونے والے ان حملوں کی میں سخت مذمت کرتا ہوں، جن میں تین ہندوستانی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان “یو اے ای کے ساتھ مکمل طور پر متحد ہے”۔ انہوں نے “مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تمام مسائل کے پرامن حل” کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک سمندری نقل و حمل کو یقینی بنانے کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ “محفوظ اور بلا تعطل جہاز رانی کو یقینی بنانا علاقائی امن، استحکام اور عالمی توانائی کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہے۔” ایران سے شروع ہونے والے اس حملے کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع ایک اہم توانائی مرکز فجیرہ میں تیل کے پلانٹ میں آگ لگ گئی۔ اگرچہ مقامی حکام نے ابھی تک سرکاری طور پر کسی کو بھی اس حملے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے، لیکن یہ واقعہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پیش آیا ہے، جہاں اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچہ مسلسل تناؤ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان تمام مسائل کے پرامن حل کے لیے ہر قسم کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ترجمان نے منگل کو اپنے بیان میں کہا، “فجیرہ پر ہونے والا حملہ، جس میں تین ہندوستانی شہری زخمی ہوئے، مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ہم ان معاندانہ کارروائیوں اور شہری بنیادی ڈھانچے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہندوستان صورتحال سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے، تاکہ مغربی ایشیا میں امن اور استحکام بحال ہو سکے۔ ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے آزاد اور بلا روک ٹوک جہاز رانی اور تجارت کی بھی اپیل کرتے ہیں۔ ہندوستان تمام مسائل کے پرامن حل کیلئے ہر ممکن کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔”
