Tuesday, February 10, 2026
ہومNational’’سیاسی لڑائیاں اکثر عدالتوں میں لڑی جاتی ہیں‘‘

’’سیاسی لڑائیاں اکثر عدالتوں میں لڑی جاتی ہیں‘‘

ہمنتا بسو اسرما کی اشتعال انگیز تقریر معاملہ میں سپریم کورٹ کا تبصرہ

نئی دہلی، 10 فروری:۔ (یو این آئی ؍ ایجنسی) سپریم کورٹ نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے مبینہ اشتعال انگیز اور نفرت انگیز بیانات سے متعلق دائر عرضیوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران سیاسی لڑائیاں اکثر عدالتوں میں لڑی جاتی ہیں۔ یہ تبصرہ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے کیا، جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس این وی انزاریا بھی شامل تھے۔

سی پی آئی (ایم) کی عرضی اور دلائل
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) کی جانب سے دائر عرضیوں میں وزیر اعلیٰ کی 27 جنوری کی عوامی تقریر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی آسام اکائی کے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سی پی آئی (ایم) کا مؤقف ہے کہ اس مواد سے اقلیتی برادری کے خلاف دشمنی، خوف اور بائیکاٹ کا ماحول پیدا ہوتا ہے، جو آئین میں درج قومی اتحاد اور بھائی چارے کے اصولوں کے منافی ہے۔
وکیل نظام پاشا کی پیشی
عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ نظام پاشا نے دلیل دی کہ معاملہ ایک آئینی عہدے پر فائز سیاسی رہنما کی مبینہ اشتعال انگیز تقریر سے متعلق ہے۔ انہوں نے ایک وائرل ویڈیو کا حوالہ دیا جس میں وزیر اعلیٰ کو مبینہ طور پر اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ جب انتخابات آتے ہیں تو ایسے معاملات اکثر سپریم کورٹ میں ہی لائے جاتے ہیں۔ ہم دیکھیں گے۔‘‘
متنازع ویڈیو اور بیانات کی تفصیل
عرضیوں کے مطابق ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ دو مسلم مردوں کی اینیمیٹڈ تصاویر کی جانب بندوق تان کر فائر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس کے ساتھ ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ اور ’نو مرسی‘ جیسے جملے درج تھے۔ اگرچہ عوامی ردعمل کے بعد یہ ویڈیو سرکاری ہینڈل سے ہٹا دی گئی، لیکن درخواست گزاروں کے مطابق یہ دیگر پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہی۔
’میاں‘ لفظ کے استعمال پر اعتراض
عرضیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ نے ’چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹرز‘ کو ووٹر فہرست سے نکالنے جیسے بیانات دیے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ لفظ ’میاں‘ مسلمانوں کے لیے توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے اور ایسے بیانات آئینی عہدے کے وقار کے منافی ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کی عرضی
جمعیت علمائے ہند نے بھی اسی تقریر اور ویڈیو کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ جمعیت کی جانب سے وکیل ایم آر شمشاد نے عدالت پر زور دیا کہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کے لیے سخت رہنما خطوط جاری کیے جائیں تاکہ ان کے بیانات کو کسی بھی برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔ یہ عرضی نفرت انگیز تقریر سے متعلق سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر التوا معاملے کا حصہ ہے۔
ایف آئی آر اور تحقیقات کا مطالبہ
سی پی آئی (ایم) اور دیگر درخواست گزاروں نے وزیر اعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے ذریعے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے والا کوئی بھی عمل وزیر کے آئینی اختیارات کی حدود سے باہر ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات