شرعی دفعات میں تبدیلی کا فیصلہ مقننہ کا اختیار، عدالت نے یو سی سی پر زور دیا
نئی دہلی، 10 مارچ:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1937 کی بعض دفعات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے دوران اہم تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس معاملات میں حتمی فیصلہ مقننہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اس طرح کے تنازعات کا مؤثر حل یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) کے نفاذ میں پوشیدہ ہو سکتا ہے۔
عرضی میں خواتین کے ساتھ امتیاز کا دعویٰ
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ، جس میں جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی شامل تھے، اس عرضی کی سماعت کر رہی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ شریعت ایکٹ 1937 کے تحت وراثت کے قوانین میں مسلم خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم حصہ ملتا ہے، جو آئین کے مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ قانون کے تحت خواتین کو مردوں کے مقابلے میں نصف حصہ دیا جاتا ہے، جو امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
قانون منسوخ کرنے سے قانونی خلا کا خدشہ
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر شریعت ایکٹ 1937 کو منسوخ کر دیا جائے تو اس کی جگہ کون سا قانون نافذ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک مسئلے کے حل کی کوشش میں ایسا قدم نہیں اٹھایا جا سکتا جس سے ایک نیا قانونی خلا پیدا ہو جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اصلاحات کے جذبے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں خواتین کو وہ حقوق بھی نہ کھونے پڑ جائیں جو انہیں موجودہ قانون کے تحت حاصل ہیں۔
یونیفارم سول کوڈ کا حوالہ
جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے کہا کہ عدالت پہلے بھی کئی مواقع پر یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی سفارش کر چکی ہے۔ ان کے مطابق سماجی اور شخصی قوانین میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے لیے قانون سازی کا راستہ زیادہ مناسب ہے۔ چیف جسٹس نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا سب سے مؤثر جواب وہی ہے جو عدالت پہلے دے چکی ہے، یعنی یکساں سول کوڈ۔
وکیل کی دلیل اور عدالت کی ہدایت
سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ عدالت یہ اعلان کر سکتی ہے کہ مسلم خواتین کو بھی مردوں کے برابر وراثتی حقوق ملنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شریعت ایکٹ کی متنازعہ دفعات ختم کر دی جائیں تو ایسے معاملات میں ہندوستانی وراثت ایکٹ نافذ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اس طرح کے بنیادی قانونی ڈھانچے میں تبدیلی کا فیصلہ پارلیمنٹ کے لیے زیادہ مناسب ہوگا۔
عرضی میں ترمیم کی ہدایت
سماعت کے اختتام پر سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی درخواست میں ترمیم کرتے ہوئے یہ واضح کریں کہ اگر شریعت ایکٹ کی متعلقہ دفعات کو منسوخ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد قانونی خلا کو پر کرنے کے لیے کیا متبادل انتظام ہونا چاہیے۔ اس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ملتوی کر دی۔



