Saturday, January 31, 2026
ہومNationalآٹزم کے علاج میں صرف منظور شدہ اور نگرانی والے کلینیکل ٹرائل...

آٹزم کے علاج میں صرف منظور شدہ اور نگرانی والے کلینیکل ٹرائل ہی قابلِ قبول: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 31 جنوری (یواین آئی) سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (اے ایس ڈی) کے علاج کے لیے منظور شدہ اور نگرانی والے کلینیکل ٹرائل کے باہر اسٹیم سیل تھراپی دینا غیر اخلاقی ہے اور اسے طبی غفلت سمجھا جائے گا۔جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے یش چیریٹیبل ٹرسٹ بنام بھارت سنگھ معاملے میں یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ آٹزم کے علاج میں اسٹیم سیل تھراپی کے حوالے سے نہ تو کافی سائنسی ثبوت موجود ہیں اور نہ ہی اس کی حفاظت اور مؤثر ہونے کو ثابت کرنے والا کوئی ٹھوس شواہد دستیاب ہے۔بنچ نے کہاکہ “منظور شدہ کلینیکل ٹرائل کے باہر مریضوں میں اسٹیم سیل کا ہر استعمال غیر اخلاقی ہے اور اسے طبی غفلت مانا جائے گا۔” عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس طرح کی تھراپی صرف سائنسی اور طبی تحقیق کو آگے بڑھانے کے مقصد سے، باقاعدہ منظور شدہ اور کنٹرول شدہ کلینیکل ٹرائل کے تحت ہی دی جا سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ، 1940 کے تحت اسٹیم سیل کو “ڈرگ” کی درجہ بندی میں رکھنا، آٹزم کے علاج میں اس کے باقاعدہ طبی استعمال کو خود بخود جائز نہیں بناتا۔فیصلے میں کہا گیاکہ “اگرچہ اے ایس ڈی کے علاج میں استعمال ہونے والے اسٹیم سیل کو ڈرگز ایکٹ، 1940 کے تحت ڈرگ مانا گیا ہے، لیکن صرف یہ حقیقت اسے باقاعدہ کلینیکل سروس کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔”عدالت نے ڈاکٹروں کے فرائض پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر ایک محتاط معالج کی طرح مناسب احتیاط، مہارت اور علم کا استعمال کریں۔اگر کوئی معالج ایسا علاج دیتا ہے جس کے حق میں معتبر سائنسی ثبوت نہیں ہیں یا جسے معتبر طبی ادارے واضح طور پر تجویز نہیں کرتے، تو یہ مناسب طبی معیار کی خلاف ورزی شمار ہوگی۔عدالت نے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے ایتھکس اینڈ میڈیکل رجسٹریشن بورڈ کی 6 دسمبر 2022 کی سفارشات، نیشنل اسٹیم سیل ریسرچ گائیڈ لائنز 2017، اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے جاری کردہ قومی اخلاقی رہنما اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔عدالت نے کہا کہ ان تمام رہنما اصولوں میں واضح طور پر ذکر ہے کہ آٹزم کے علاج میں اسٹیم سیل تھراپی کو باقاعدہ علاج کے طور پر تجویز نہیں کیا گیا ہے اور اسے صرف منظور شدہ کلینیکل ٹرائل کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔اس معاملے میں درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل سدھارتھ ناتھ، مسٹر پرتیک کے۔ چڈھا، مسٹر اسجد حسین، مسٹر انونئے چودھری، مسٹر شریکر ایچوری اور مسٹر انیکیت چوہان نے دلائل دیے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات