Monday, February 16, 2026
ہومNational155 سالہ مینارہ مسجد کو 70 لاکھ روپے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے...

155 سالہ مینارہ مسجد کو 70 لاکھ روپے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کا نوٹس

ممبئی، 15 فروری:۔ (ایجنسی) مینارہ مسجد ٹرسٹ کو پراپرٹی ٹیکس کا بقایا 69,94,273 روپے فوری طور پر ادا کرنے کا بی ایم سی ’بی وارڈ‘ کی جانب سے نوٹس دیا گیا ہے، بصورت دیگر کارروائی کا انتباہ دیا گیا۔ اتنی خطیر رقم ادا کرنے کا نوٹس ملنے کے بعد سے ٹرسٹیان حیران ہیں کہ آخر بی ایم سی کی جانب سے ایسا نوٹس کس بنیاد پر اور کیوں جاری کیا گیا ہے؟

بی ایم سی کی نوٹس میں کیا لکھا گیا ہے؟
بی ایم سی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں یہ حوالہ دیا گیا ہے کہ میمن واڑہ بی وارڈ میں واقع جائیداد کا پراپرٹی ٹیکس (سیکشن 202 کے تحت عائد جرمانے کے ساتھ) 69,94,273 روپے باقی ہے، اسے بلا تاخیر ادا کیا جائے، عدم ادائیگی کی صورت میں ریکوری کی کارروائی کے لئے تجویز کیا جا رہا ہے۔ مینارہ مسجد ٹرسٹ کو انتباہ دیتے ہوئے نوٹس میں آگے لکھا گیا ہے کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آپ آج تک جرمانے کے ساتھ پچھلا بقایا پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ بقایا واجبات جرمانے کے ساتھ ادا کریں۔ نوٹس جاری کیے جانے کی تاریخ سے 21 دنوں کے اندر جائزہ لینے اور ’بی وارڈ‘ کی جانب سے ذیل میں دی گئی ریکوری کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ اسی طرح ممبئی میونسپل کارپوریشن (ایم ایم سی) ایکٹ 1888 کی دفعہ 202 کے تحت ہر ماہ بقایا رقم پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ دفعہ 203 کے تحت غیر منقولہ جائیداد کا اٹیچمنٹ، دفعہ 204 کے تحت ڈیفالٹر کا سامان جہاں بھی پایا جائے ضبط کیا جا سکتا ہے، دفعہ 205 انوینٹری اور فروخت کرنے کا نوٹس، دفعہ 206 کے تحت عوامی نیلامی کا اعلان۔ اسی طرح ایم ایم سی ایکٹ 1888 کے سیکشن 211 اور 212 کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے کہ برائے مہربانی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے، دفتر کی جانب سے ریکوری کی کارروائی شروع کرنے پر پانی کا کنکشن منقطع کر دیا جائے گا، لہٰذا آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ مزید کارروائی سے بچنے کے لیے مذکورہ بالا پراپرٹی ٹیکس بلا تاخیر ادا کریں۔
ٹرسٹ کا جواب
بی ایم سی کی جانب سے مینارہ مسجد ٹرسٹ کو جاری کردہ نوٹس کی ٹرسٹی عبدالوہاب مرچنٹ نے توثیق کی اور بتایا کہ ’’دراصل یہ مینارہ مسجد سے متصل اس عمارت کا معاملہ ہے جس میں دارالعلوم محمدیہ چلایا جا رہا ہے۔ اُن کے مطابق بی ایم سی کی جانب سے نوٹس میں سب سے حیران کن یہ ہے کہ عمارت کی چوتھی منزل اور پانچویں منزل کے ٹیریس کو من مانے طریقے سے کمرشل زمرے میں شامل کیا گیا ہے اور اس پر بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے گزشتہ چند برس میں 200 گنا سے زائد ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہاں ادارہ چلتا ہے، طلبہ زیر تعلیم ہیں، پھر اسے کمرشل زمرے میں شامل کرنے کا کیا جواز ہے۔‘‘

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات