ہومNationalمودی پردوردرشن کا استعمال ’جانبدارانہ سیاسی تقریر‘ کے لیے کرنے کا الزام

مودی پردوردرشن کا استعمال ’جانبدارانہ سیاسی تقریر‘ کے لیے کرنے کا الزام

سی پی آئی (ایم) نے الیکشن کمیشن سے مودی کی شکایت کی

نئی دہلی، 19 اپریل (یواین آئی)کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے موجودہ انتخابی مدت کے دوران دوردرشن کا استعمال “جانبدارانہ سیاسی تقریر” کے لیے کیا، جو ضابطہ اخلاق (ایم سی سی) کی خلاف ورزی ہے۔الیکشن کمیشن کو دی گئی باضابطہ شکایت میں سی پی آئی ایم کے جنرل سیکریٹری ایم اے بیبی نے کہا کہ 18 اپریل کو وزیر اعظم کا ٹی وی خطاب ایسے وقت میں نشر ہوا، جب تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے سبب ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ پارٹی نے دلیل دی کہ یہ نشریہ سرکاری ابلاغ کے دائرے سے باہر تھا اور ایک سیاسی مہم کے مترادف تھا۔چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں مسٹر بیبی نے کہاکہ “یہ خط عوامی نشریاتی ادارے دوردرشن کے غلط استعمال اور اس کے ذریعے سیاسی تقریر دینے کے باعث پیدا ہونے والی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی کی جانب آپ کی فوری توجہ مبذول کرانے کے لیے ہے۔”انہوں نے کہا کہ “اس خطاب کا مواد، لہجہ اور پیغام کسی بھی صورت میں سرکاری ابلاغ نہیں کہا جا سکتا”۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ “مکمل طور پر سیاسی” تھا اور انتخابی ریاستوں میں ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا۔سی پی آئی ایم نے ضابطہ اخلاق کی دفعات کا حوالہ دیا، خاص طور پر برسرِ اقتدار جماعت کے طرزِ عمل سے متعلق قواعد، جو انتخابات کے دوران جانبدارانہ تشہیر کے لیے سرکاری وسائل اور سرکاری میڈیا کے استعمال کو روکتے ہیں۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ “برسرِ اقتدار جماعت کے امکانات بڑھانے کے مقصد سے… انتخابی مدت کے دوران جانبدارانہ کوریج کے لیے سرکاری ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال سے سختی سے بچنا چاہیے۔”پارٹی نے کہا کہ انتخابات کے دوران سیاسی پیغام رسانی کے لیے سرکاری نشریاتی ادارے کا استعمال “سب کے لیے برابر مواقع” کو ختم کرتا ہے اور آزاد و منصفانہ انتخابات کے اصول کو کمزور کرتا ہے۔ پارٹی نے کمیشن سے اپیل کی کہ وہ اس خلاف ورزی کا نوٹس لے اور وزیر اعظم اور متعلقہ حکام کے خلاف فوری مناسب کارروائی شروع کرے۔
میونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ بنائے وشوم نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر وزیر اعظم نریندر مودی پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی ‘سنگین خلاف ورزی، کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے کی فوری تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مسٹر وشوم نے 19 اپریل کو لکھے گئے اپنے خط میں یہ دلیل دی کہ پانچ ریاستوں میں جاری انتخابات کے درمیان ملک کے نام وزیر اعظم کا حالیہ خطاب ‘سیاسی،تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریر میں یکطرفہ باتیں کی گئیں اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کی براہ راست کوشش کی گئی۔ یہ اس وقت کیا گیا جب ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابی عمل جاری ہے۔ سی پی آئی رہنما نے زور دے کر کہا کہ ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دوران اس طرح کا خطاب شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر دوردرشن اور سنسد ٹی وی جیسے سرکاری چینلز پر اس خطاب کی نشریات پر تشویش ظاہر کی اور اسے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مسٹر وشوم نے خط میں لکھا کہ’’سیاسی تقریر کی تشہیر کے لیے سرکاری وسائل اور عوام کے پیسوں سے چلنے والے پلیٹ فارمز کا استعمال انتخابی اصولوں کی توہین ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے الیکشن کمیشن کی اس ذمہ داری کو ٹھیس پہنچتی ہے جس کے تحت وہ تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کا پابند ہے۔سی پی آئی رہنما نے کمیشن کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو اس سے ادارے کے وقار میں کمی آ سکتی ہے اور منصفانہ انتخابات پر عوام کا بھروسہ کم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے انتخابی عمل کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے جلد از جلد کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔الیکشن کمیشن نے فی الحال اس معاملے پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات