یوپی اے ٹی ایس نے ناگپور سے عیدالاسلام کو کیا گرفتار
لکھنؤ/ناگپور، 18 فروری (یو این آئی) اتر پردیش میں غیر قانونی تبدیلی مذہب سے متعلق ایک بڑے معاملے میں یوپی اے ٹی ایس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اے ٹی ایس ٹیم نے ہفتے کے روز مہاراشٹر کے ناگپور سے عیدالاسلام نامی ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملزم چھانگُر عرف جلال الدین کے مبینہ غیر قانونی مذہب تبدیلی نیٹ ورک سے وابستہ ہے۔ گرفتاری کے بعد اے ٹی ایس اسے ٹرانزٹ ریمانڈ پر لکھنؤ لا رہی ہے، جہاں اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جائے گی۔اے ٹی ایس کے مطابق ملزم ناگپور کے آسی نگر علاقے کا رہائشی ہے اور اس کے خلاف اے ٹی ایس تھانے میں درج معاملے میں کئی سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔ ان میں دفعہ 121 اے (ملک کے خلاف سازش)، 153 اے (فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا) کے علاوہ دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملزم کے خلاف اتر پردیش میں غیر قانونی مذہبی تبدیلی کی روک تھام ایکٹ2021 کے تحت بھی کارروائی کی گئی ہے۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عیدالاسلام ناگپور میں ’بھارت پرتیکارَتھ سیوا سنگھ‘ نامی تنظیم چلا رہا تھا۔ اے ٹی ایس کا الزام ہے کہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے غیر قانونی مذہب تبدیلی کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ تنظیم میں عیدالاسلام نے چھانگُر عرف جلال الدین کو اَوَدھ صوبے کا صدر بھی مقرر کیا تھا، تاکہ اتر پردیش میں نیٹ ورک مضبوط کیا جا سکے۔اے ٹی ایس کی جانچ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ عیدالاسلام محض تنظیم سے جڑا ہوا نام نہیں تھا، بلکہ چھانگُر کے گروہ کا سرگرم رکن تھا اور براہِ راست ان سرگرمیوں میں تعاون کر رہا تھا۔ ایجنسی کو دونوں کے درمیان بینک لین دین کے ٹھوس شواہد بھی ملے ہیں، جس سے نیٹ ورک کی فنڈنگ اور توسیع کی تصدیق ہوتی ہے۔اے ٹی ایس کے مطابق خصوصی عدالت اے ٹی ایس/این آئی اے لکھنؤ کی جانب سے عیدالاسلام کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ (این بی ڈبلیو) جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ فرار تھا۔ طویل نگرانی کے بعد لوکیشن ٹریس ہونے پر ناگپور میں کارروائی کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ افسران کا خیال ہے کہ عیدالاسلام سے پوچھ گچھ کے دوران اس مبینہ سنڈیکیٹ سے جڑے نیٹ ورک، فنڈنگ اور اتر پردیش میں سرگرم دیگر افراد کے بارے میں اہم معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔



