نئی دہلی۔9؍ مئی۔ ایم این این۔ بھارت کے خلیج بنگال میں حالیہ طویل فاصلے کے پراسرار میزائل تجربے نے عالمی دفاعی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تجربہ بھارت کے اگلی نسل کے اسٹریٹجک میزائل پروگرام، ممکنہ طور پر اگنی-6 یا کسی جدید ہائپرسونک نظام، سے متعلق ہو سکتا ہے، جو ایشیا میں طاقت کے توازن کو مزید تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی تجزیاتی ویب سائٹ ڈیفنس سیکورٹی نیٹ ورک کے مطابق 8 مئی کو اڈیشہ کے ساحل کے قریب کیے گئے اس تجربے کے بعد چین، پاکستان اور پورے ہند-بحرالکاہل خطے میں اس کے تزویراتی اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجربے کے دوران جاری کردہ نوٹس ٹو ایئر مین (NOTAM) کے مطابق خلیج بنگال میں تقریباً 3,500 کلومیٹر سے زائد طویل فضائی راہداری محدود کی گئی، جو عام طور پر صرف انتہائی طویل فاصلے کے اسٹریٹجک میزائل تجربات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بھارت کی وزارت دفاع اور دفاعی تحقیقاتی و ترقیاتی تنظیم ے فوری طور پر میزائل کی نوعیت یا مقصد کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی، جس سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی خطرے کی راہداری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تجربہ روایتی ہتھیاروں کے بجائے بھارت کی اسٹریٹجک روک تھام کی صلاحیت سے متعلق ہو سکتا ہے۔ چند روز قبل ڈی آر ڈی او کے سربراہ ڈاکٹر سمیر وی کامت نے کہا تھا کہ بھارت 10,000 کلومیٹر سے زائد مار کرنے والے اگنی-6 بین البرِاعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کے لیے تکنیکی طور پر مکمل طور پر تیار ہے اور صرف حکومتی منظوری کا منتظر ہے۔ اگنی-6 کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ متعدد آزادانہ طور پر ہدف بنانے والے وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے بھارت دنیا کی جدید ترین اسٹریٹجک میزائل طاقتوں کی صف میں مزید مضبوطی سے شامل ہو جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت نے حال ہی میں 1,500 کلومیٹر رینج اور تقریباً ماخ 10 رفتار رکھنے والے طویل فاصلے کے ہائپرسونک اینٹی شپ میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس کامیابی نے بھارت کو ان چند ممالک میں شامل کر دیا ہے جو جدید ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کر چکے ہیں۔ دفاعی مبصرین کے مطابق بھارت کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتیں نہ صرف چین اور پاکستان کے خلاف قابلِ اعتماد دفاعی روک تھام کو مضبوط کر رہی ہیں بلکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں طاقت کے توازن کو بھی نئی شکل دے رہی ہیں۔ خاص طور پر چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں اور پاکستان کے ساتھ اس کے دفاعی تعاون کے تناظر میں یہ پیش رفت بھارت کی طویل المدت تزویراتی منصوبہ بندی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594383