نئی دہلی، 25 جنوری (یو این آئی) ہندوستان نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کی اُس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جس میں ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین پر حالیہ کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی تھی۔ ہندوستان ان سات ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ایران پر آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ دیگر چھ ممالک چین، پاکستان، کیوبا، انڈونیشیا، ویتنام اور عراق تھے۔ یہ قرارداد 47 رکنی یو این ایچ آر سی میں 25 ووٹوں کے حق میں، 14 غیر حاضر اور 7 مخالفت کے ساتھ منظور ہوئی۔ایران کے ہندوستان میں سفیر محمد فتالی نے ہندوستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے ایران کو ’’اصولی اور مضبوط حمایت‘‘ فراہم کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ ’’میں حکومتِ ہند کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے ایران کے خلاف یو این ایچ آر سی میں ایک غیر منصفانہ اور سیاسی طور پر جانبدار قرارداد کی مخالفت کی۔ یہ موقف ہندوستان کے انصاف، کثیرجہتی اور قومی خودمختاری کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘انسانی حقوق کونسل نے اپنے 39ویں خصوصی اجلاس میں ’’اسلامی جمہوریہ ایران میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال‘‘ پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور پرامن مظاہروں پر پرتشدد کریک ڈاؤن کی مذمت کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بشمول بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں، بڑی تعداد زخمی ہوئی اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر 2025 کو شروع ہوئے تھے۔کونسل نے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا احترام کرے، انہیں محفوظ بنائے اور ہر اُس اقدام کو روکے جو ’غیر قانونی قتل، جبری گمشدگی، جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد، من مانے گرفتاری اور حراست، بغیر رابطے کے حراست اور تشدد یا دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک، خاص طور پر پرامن مظاہرین کے خلاف۔کونسل نے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مینڈیٹ کو دو سال کے لیے اور ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندے کے مینڈیٹ کو ایک سال کے لیے بڑھانے کی قرارداد بھی منظور کی۔اجلاس کے آغاز پر اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا کہ ایران میں ’’بربریت‘‘ جاری ہے، جہاں ہزاروں افراد بشمول بچے سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں مارے گئے، جو 8 جنوری کو شدت اختیار کر گیا جب مظاہرین کے خلاف براہِ راست گولیاں چلائی گئیں۔ترک نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’ظالمانہ جبر‘‘ ختم کرے، فوری طور پر تمام ’’من مانے طور پر گرفتار شدہ‘‘ افراد کو رہا کرے، سزائے موت پر مکمل پابندی لگائے، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی بندش ختم کرے اور تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔خصوصی نمائندہ برائے ایران مائی ساٹو نے کہا کہ 28 دسمبر 2025 کو شدید معاشی مشکلات نے ایران بھر میں مظاہروں کو جنم دیا جو ایک قومی تحریک میں بدل گئے، جہاں مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں کے مرد و خواتین سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ایرانی حکام نے تشدد کے ساتھ جواب دیا اور 8 جنوری 2026 کو صورتحال بہت زیادہ بگڑ گئی جب تقریباً مکمل انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن بند کر دی گئی۔ایران پر آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن کی چیئر سارہ حسین نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ’’غیرمعمولی سطح کا تشدد‘‘ دیکھا گیا، جو 1979 کے انقلاب کے بعد عوام کے خلاف ’’سب سے مہلک کریک ڈاؤن‘‘ معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’بین الاقوامی قانون مطالبہ کرتا ہے کہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو، خطرے میں موجود افراد کو تحفظ دیا جائے اور ایران کے مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے انصاف اور جوابدہی کی حقیقی راہ فراہم کی جائے۔‘‘یہ پہلا موقع تھا کہ ہندوستان نے ایران کے لیے کسی تحقیقی طریقہ کار کے خلاف براہِ راست ووٹ دیا، جبکہ اس نے 2022 اور 2024 میں واک آؤٹ کا راستہ اختیار کیا تھا۔ ہندوستان کا موقف ملک مخصوص قراردادوں کی اصولی مخالفت پر مبنی ہے، جنہیں وہ جانبدار اور سیاسی طور پر متاثرہ سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی اسٹریٹجک خودمختاری اور چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبوں کے تحفظ نے بھی ہندوستان کے فیصلے پر اثر ڈالا۔



