Sunday, January 11, 2026
ہومNationalاسمبلی کی ویڈیو ریکارڈنگ کو جعلی قرار دینے کا حق کسی کو...

اسمبلی کی ویڈیو ریکارڈنگ کو جعلی قرار دینے کا حق کسی کو کیسے مل سکتا ہے!

کپِل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے معاملے میں پنجاب پولیس سے 48 گھنٹوں میں جواب طلب کیا

نئی دہلی، 10 جنوری (یواین آئی) دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے دہلی کے ثقافت کے وزیر کپِل مشرا کے خلاف جالندھر میں ایف آئی آر درج کئے جانے کے مسئلے پر سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پنجاب کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) گورو یادو، خصوصی پولیس ڈائریکٹر جنرل (سائبر کرائم) ارپت شکلا اور جالندھر کی پولیس کمشنر دھنپریت کور کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے 48 گھنٹوں میں جواب دینے کو کہا ہے۔مسٹر گپتا نے ہفتہ کو دہلی اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران بغیر نام لئے عام آدمی پارٹی پر نشانہ لگایا اور کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ جو “ملکیت” (ویڈیو) اسمبلی کی ہے، اس کا استعمال سیاسی فائدے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “کل جو ہوا وہ بہت افسوسناک ہے۔ یہ ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے۔ جس ویڈیو کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، وہ کسی نجی ذریعہ کی ریکارڈنگ نہیں ہے بلکہ یہ اسمبلی کے اندر کی سرکاری ریکارڈنگ ہے۔ یہ مکمل طور پر اسمبلی کی ملکیت ہے۔ اسمبلی کی ملکیت کا غلط استعمال اور اس کی بنیاد پر ایک رکن و وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ایک سنگین معاملہ ہے۔ اسی لئے ہم نے کارروائی کی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “ان افسران سے 48 گھنٹوں میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کو کہا گیا ہے۔ اگر وہ اس مدت میں جواب نہیں دیتے تو ہم مزید کارروائی کریں گے۔ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ جالندھر پولیس نے جس ویڈیو کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی ہے، اسے جعلی قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس ویڈیو کے جعلی ہونے کی تصدیق فارنزک لیب میں ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی کے ویڈیو کا استعمال کرنے اور یہ فیصلہ کرنے کا حق کہ وہ اصلی ہے یا جعلی، کسی شخص کو کس نے دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ آخر 24 گھنٹوں میں ہی فارنزک لیب کی رپورٹ کیسے آگئی۔مسٹرف گپتا نے کہاکہ “یہ معاملہ یعنی گروؤں کی بے حرمتی کا مسئلہ اسمبلی کے ارکان نے میرے نوٹس میں لایا تھا اور میں نے اس ویڈیو کو فارنزک لیب میں بھیجنے اور 15 دن میں رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا تھا۔ جب میں اس ویڈیو کی جانچ کروا رہا ہوں تو کوئی دوسرا شخص اس کی جانچ کیسے کروا سکتا ہے اور کیسے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ کون سا ویڈیو اصلی ہے اور کون سا جعلی۔”انہوں نے کہاکہ “گرو تیغ بہادر کی 350ویں شہادت دن کے موقع پر اسمبلی میں بحث ہو رہی تھی اور پورا ایوان غمگین تھا اور گروؤں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہا تھا۔ اسی وقت اپوزیشن لیڈر نے آلودگی کا مسئلہ اٹھایا اور گروؤں کے بارے میں کچھ باتیں کہیں۔ ان پر گروؤں کی بے حرمتی کا الزام ہے۔ اس کے بعد میں نے ان سے معافی مانگنے کے لئے کہا لیکن انہوں نے معافی نہیں مانگی۔”اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ محترمہ آتشی کئی دنوں تک ایوان میں موجود ہی نہیں رہیں، جبکہ ان کی پارٹی (عام آدمی پارٹی) کے ارکان آلودگی پر بحث کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن جب بحث ہوئی تو اپوزیشن کے ارکان ایک ایک کر کے ایوان سے باہر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے گرو روایت کی بے حرمتی کی ہے اور انہیں اس پر معافی مانگنے میں ہچکچانا نہیں چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پنجاب پولیس تک محدود نہیں ہے بلکہ اس پورے واقعے میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ یہ ویڈیو 6 جنوری کو دہلی اسمبلی کی کارروائی سے متعلق ہے، جس کی بنیاد پر جالندھر پولیس نے مسٹر مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ دہلی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹس میں پنجاب پولیس کے ان تینوں افسران کو پورے معاملے پر اپنا تحریری وضاحت، شکایت کی کاپی، ایف آئی آر کی نقل اور فارنزک لیب کی رپورٹ سمیت تمام متعلقہ دستاویزات 12 جنوری تک سیکریٹریٹ کو لازمی طور پر جمع کرانے کو کہا گیا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات