خواتین تعلیم، انتظامیہ، عدلیہ، فوج، طب، سائنس، ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ سمیت متعدد شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں: صدر جمہوریہ
نئی دہلی، 8 مارچ (ہ س)۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا ہے کہ حقیقی معنوں میں ترقی حاصل کرنے کے لئے ملک کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرنے ولای خوتین کی مساوی شراکت داری یقینی کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے خواتین کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دینا اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دینا ضروری ہے۔
صدر مملکت اتوار کو یہاں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے زیر اہتمام قومی سطح کے پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس پروگرام کا مقصد مختلف شعبوں میں خواتین کی کامیابیوں اور شراکت کا احترام کرنا اور صنفی مساوات، تحفظ، احترام اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کرنا تھا۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج خواتین تعلیم، انتظامیہ، عدلیہ، فوج، طب، سائنس، ٹیکنالوجی، آرٹس اور انٹرپرینیورشپ سمیت متعدد شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ دیہی علاقوں کی خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے معاشی طور پر خود انحصار ہو رہی ہیں اور پنچایتوں میں دیہی ترقی کی قیادت کر رہی ہیں۔ بہت سی خواتین انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور کارپوریٹ دنیا میں اپنی صلاحیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعے قیادت بھی فراہم کر رہی ہیں۔ خواتین کھیلوں میں بھی نمایاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مثالوں سے یہ اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ موقع اور تعاون ملنے پر خواتین ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے “خواتین کی زیر قیادت ترقی” کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران خواتین کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک نے اسکولی تعلیم میں صنفی برابری حاصل کی ہے، اور مجموعی اندراج کے تناسب کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کی تعلیم میں خواتین کی شرکت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026-27 میں ہر ضلع میں خواتین کے ہاسٹل قائم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے جس سے ایس ٹی ای ایم شعبوں میں طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی بیٹیاں علم پر مبنی معیشت میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔ صدر نے کہا کہ خواتین بھی روزگار پیدا کرنے والی کاروباری شخصیت کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ اسٹارٹ اپ انڈیا اسکیم کے تحت سپورٹ حاصل کرنے والے نصف سے زیادہ اسٹارٹ اپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دو لاکھ سے زیادہ خواتین کی ملکیت والے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے اس وقت سرکاری ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026-27 میں شروع کی گئی شی-مارٹ” پہل، سیلف ہیلپ گروپس اور دیہی خواتین کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعات کو بہتر مارکیٹ فراہم کرے گی۔ اس اقدام کے تحت ہر ضلع میں کمیونٹی کے ذریعے چلنے والے ریٹیل آؤٹ لیٹس قائم کیے جائیں گے۔ صدر نے نوٹ کیا کہ گزشتہ سال لاگو کیے گئے لیبر کوڈز کا مقصد خواتین کارکنوں کے لیے کام کا زیادہ جامع، محفوظ اور بااختیار ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کو ترجیح دیتے ہوئے کئی اہم اسکیموں پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” مہم بیٹیوں کی پیدائش، تعلیم اور تحفظ کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ “سوکنیا سمردھی یوجنا” ان کے روشن مستقبل کے لیے محفوظ بچت کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ “پردھان منتری اجولا یوجنا” باورچی خانے کو دھواں سے پاک بنا کر خواتین کی صحت کی حفاظت کر رہی ہے، اور “پردھان منتری مدرا یوجنا” خواتین کو مالی طور پر خود مختار ہونے میں مدد کر رہی ہے۔ مزید برآں، “مشن شکتی” خواتین کی حفاظت اور بااختیار بنانے کو مضبوط کر رہا ہے۔صدرجمہوریہ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی متعدد کوششوں کے باوجود ان کی ترقی کی راہ میں اب بھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بہت سی خواتین کو امتیازی سلوک، مساوی کام کے لیے غیر مساوی تنخواہ اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو صرف قانون سازی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے سماجی ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقی مساوات اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان امتیاز کو ختم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ خوف اور امتیاز سے پاک ماحول میں خواتین قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور حصہ ڈال سکتی ہیں۔
اس موقع پر صدر جمہوریہ نے تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہر بیٹی کو تعلیم اور یکساں مواقع فراہم کرنے، خواتین کے احترام اور تحفظ کو اولین ترجیح دینے اور معاشرے میں رائج ہر قسم کے امتیاز کو ختم کرنے کا عہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کرکے ہندوستان دنیا کے سامنے خواتین کو بااختیار بنانے کی مثال پیش کرسکتا ہے۔ خواتین کے عالمی دن پر ہم وطنوں کو نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ یہ دن نہ صرف خواتین کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا بلکہ ان کو بااختیار بنانے کے لیے نئے عہد لینے کا بھی موقع ہے۔



