پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات ضروری: دتا تریہ ہوسبالے
نئی دہلی/پانی پت، 15 مارچ (یو این آئی) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتا تریہ ہوسبالے نے اتوار کو بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پورے ایشیا کی ترقی اور سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے یہ بات ہریانہ کے پانی پت کے سمالکھا میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی اکھیل بھارتیہ پرتیندی سبھا کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ہوسبالے نے کہا کہ حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش اور نیپال میں سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے بعد نئی حکومتیں قائم ہوئی ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک میں امن اور استحکام ضروری ہے اور ہندوستان کے ساتھ ان کے بہتر تعلقات علاقائی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں ہندو برادری کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ صرف آر ایس ایس کے کارکن ہی محب وطن ہیں۔ ان کے مطابق سنگھ ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ تین روزہ اکھیل بھارتیہ پرتیندی سبھا میں کئی اہم تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں، جن میں نیپال اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ہوسبالے نے بتایا کہ اجلاس میں آر ایس ایس کے صد سالہ سال (2025-26) کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں سنگھ کی 88,949 شاخیں قائم ہوئیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 5,820 زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں کیرالہ، تمل ناڈو سمیت جنوبی ہند اور شمال مشرقی ریاستوں میں سنگھ کی سرگرمیوں اور وہاں درپیش چیلنجوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر سنگھ میں ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کی گئی تو اس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ایران سے متعلق بین الاقوامی معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس میں سنگھ کا کوئی رول نہیں ہے اور انہیں یقین ہے کہ ہندوستانی حکومت ملک کے مفاد میں درست فیصلہ کر رہی ہے۔انہوں نے سنگھ میں مسلمانوں اور خواتین کی شمولیت کے بارے میں کہا کہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص سنگھ سے وابستہ ہو سکتا ہے اور پہلے سے کئی مسلم کارکن اس میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کی شرکت بھی سنگھ کی دیگر سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں ہے، تاہم شاخ کی باقاعدہ سرگرمیوں میں وہ شامل نہیں ہوتیں۔



