Sunday, January 11, 2026
ہومNationalاردو زبان کی تہذیب اور شائستگی اردو کے ہی الفاظ سے ممکن...

اردو زبان کی تہذیب اور شائستگی اردو کے ہی الفاظ سے ممکن :پروفیسر طاہر محمود

نئی دہلی، 3 جنوری (یو این آئی) معروف اردو شاعر، فکشن نگاراور براڈکاسٹر رفعت سروش کی ادبی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے مایہ ناز قانون داں پروفیسر طاہر محمود نے کہا کہ اردو کو اگر آسان کیا جائے تو وہ ہندی ہوجاتی ہے ۔ اردو زبان کی تہذیب اور شائستگی تبھی رہے گی جب اردو کے ہی الفاظ استعمال کیے جائیں۔یہ بات انہوں نے سوشل کاؤنسلرس اور انجمن فکر رفعت سروش کی جانب سے منعقدہ ‘جشن رفعت سروش ( صد سالہ تقریب ) کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔مسٹر محمود نے رفعت سروش کی ادبی، صحافتی اور شاعرانہ خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رفعت سروش کا نام سنا کرتے تھے لیکن ان سے ملاقات ‘وودھ بھارتی،کے تعلق سے ہوئی جب میں اقلیتی کمیشن کا چئیرمین تھا ۔ وہ مجھ سے کافی بڑے تھے لیکن میرا احترام یوں کرتے تھے جیسے میں ان سے بڑا ہوں۔ انہوں نے طویل گفتگو سے احتراز کرتے ہوئے ایک انٹرویو پیش کیا جس میں ان کے نثری سوالوں کا رفعت سروش نےمنظوم جواب پیش کیا تھا۔تسمیہ فاونڈیشن کے چئیرمین ڈاکٹر سید فاروق جنہوں نے اپنی صدارت طاہر محمود صاحب کے سپرد کردی تھی، کہا کہ اردو ایک ایسی خوبصورت زبان ہے جس میں شعری پیکر میں بڑی سے بڑی بات دو مصرعوں میں سمیٹ لینے کا ہنر موجود ہے۔مہمان ذی وقار پوفیسر خالد محمود نے رفعت سروش کی حیات وخدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر رفعت سروش کو کسی نے نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا میں نے رفعت سروش کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اگر کسی نے ان کی نثر نہیں پڑھی تو کچھ نہیں پڑھا۔ ایسی خوبصورت، لاجواب ،شگفتہ نثرلکھنے والے ہمارے عہد میں کم ہیں۔اس موقع پر ‘ رجنی گندھا ‘ کے عنون سے رفعت سروش کی غزلوں اور نظموں پر مبنی ایک کتاب کی رسم اجراء بھی عمل میں آئی، جسے ڈاکٹر شبانہ نذیر نے دیوناگری میں پیش کیا ہے ۔پروفیسر رحمٰن مصور نے اس کتاب کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان سے محبت کرنے والوں کے لیے جو اردو رسم الخط سے واقف نہیں ہیں، یہ کتاب ایک تحفہ ہے۔اس پروگرام کے تین حصے تھے پہلے حصے میں رفعت سروش کے اہل خانہ نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ڈاکٹر شبانہ نذیر نے اففتاحی کلمات میں اپنے والد کی شخصیت ، فن اور خدمات پر مختصر مگر جامع انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شعر و نثر کی کئی اصناف پر طبع آزمائی کرنے کے ساتھ ساتھ آل انڈیا ریڈیو سے 39 سال تک وابستگی رہی۔ انہوں نے ہر جگہ اپنے ہنر کا لوہا منوایا۔ان کے دونوں صاحبزادوں نے بھی اپنے والد کو اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔ نوید سروش نے ایک آڈیو ویژول اور جاوید سروش نے والد کی یادوں پر مبنی تاثرات پیش کیے۔بھوپال سے ڈاکٹر رضیہ حامد نے ایک مضمون ارسال کیا تھا جسے محترمہ عذرا نقوی نے پڑھ کر سنایا۔اس سیشن کی خوبصورت نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے کی اس کے بعد ڈاکٹر اوشین بھاٹیہ کی دلنشیں آواز میں غزلوں کا ایک خوب صورت پروگرام پیش کیا گیا۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات