جمعیۃ علماء ہند کا “تحریکِ ہندو مسلم اتحاد” شروع کرنے کا اعلان
نئی دہلی، 25 جون (یو این آئی) جمعیۃعلماء اتر۱کھنڈ کی مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملک کے حالات اس وقت انتہائی تشویشناک ہیں۔جاری ریلیز کے مطابق انہوں نے دعوی کیا کہ آئین اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ امتیاز، ناانصافی اور نفرت کا سلسلہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ خود کو ہی قانون سمجھنے لگے ہیں اور آمریت ان کے مزاج کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ دستور ہند کی روح کو مجروح کیا جا رہا ہے اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جارہا ہے، ملک تباہی کے آخری نشان کو چھو رہا ہے جس کے سنگین نتائج پورے ملک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
مولانا مدنی نے سخت لہجے میں کہا کہ بلڈوزر آج انصاف کا نہیں بلکہ انتقام، تعصب اور نفرت کی سیاست کی علامت بن چکا ہے۔ قانون اور عدالتوں کو نظر انداز کرکے لوگوں کے گھروں، دکانوں اور عبادت گاہوں کو مسمار کرنا آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور انصاف کے دوہرے پیمانے سے بدامنی اور تباہی کے راستے کھلتے ہیں۔ اگر حکومتیں عدالتوں کی جگہ بلڈوزر سے انصاف کرنے لگیں تو پھر قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کا کیا مطلب باقی رہ جاتا ہے؟ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بلڈوزور چلاکر کسی کا گھر توڑنا سزا نہیں جرم ہے، عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکار جج نہیں بن سکتی،قانونی اور غیرقانونی تعین عدلیہ ہی کرے گی۔مولانا مدنی نے کہا کہ جن مدارس اور مساجد پر آج بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں، انہی اداروں کے علماء نے انگریز استعمار کے خلاف سب سے پہلے1803 ء میں جہاد آزادی کا فتویٰ دیا اور پھراس کے نتیجے میں جنگ آزادی کے متوالوں نے تحریک آزادی کی قیادت کی اور ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج انہی اداروں کو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اسی طرح پچھلے کچھ برسوں میں حکومت کی طرف سے فرقہ پرستوں کی کھلی حمایت اور قانونی اداروں کی خاموشی کی وجہ سے جس طرح نفرت کی سیاست کو بڑھاوا ملا ہے اس سے ان صدیوں پرانی اقدار کو زبردست نقصان پہنچا ہے جو ہمارے ملک کی صدیوں پرانی تہذیب اور روایت کا حصہ رہی ہیں اور جن کی بنیاد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے باہمی اتحاد ومحبت پر ٹکی ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج مسلمانوں سے حب الوطنی اور وفاداری کی سند وہ لوگ مانگ رہے ہیں جن کے پروجوں کے بارے میں تاریخ میں انگریز حکومت سے معافی نامے اور مصالحت کے واقعات درج ہیں، جبکہ مسلمانوں اور ان کے اکابر نے ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہی سنگین حالات کے پیش نظر 14 اور 15 مئی کو نئی دہلی میں جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہواتھا ، جس میں طویل غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان باہمی رواداری، احترامِ انسانیت اور بقائے باہمی کے فروغ کے لیے ہر سطح پر ‘‘تحریک ہندو مسلم اتحاد’’ (اور دیگر اقلیتوں اور اہل مذاہب کے درمیان اتحاد کا پیغام)چھوٹے بڑے پروگرام کئے جائیں گے اور اسے ایک تحریک کی شکل میں پورے ملک میں متعارف کرایا جائے گا۔اس مقصد کے تحت ہر سطح پر چھوٹے اور بڑے پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن میں تمام مذاہب کی ایسی اہم شخصیات کو مدعو کیا جائے گا جو نہ صرف ہم خیال ہوں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور طاقت بھی رکھتے ہوں۔ یہ بھی طے کیا گیا کہ “تحریک ہندو مسلم اتحاد” کے تحت منعقد ہونے والے تمام پروگرام مکمل طور پر غیر سیاسی ہوں گے اور ان کا مقصد سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا۔مولانا مدنی نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کی اکثریت آج بھی محبت، بھائی چارے اور بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ المیہ صرف یہ ہے کہ نفرت کے شور میں محبت کی آوازیں دب کر رہ گئی ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ محبت اور خیر کی روشنیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ماضی میں بھی ملک کی سالمیت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہر قسم کی انتہاپسندی کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور آج بھی اپنے وسیع اور باوقار پلیٹ فارم کے ذریعے امن، محبت اور انصاف کی آوازوں کو طاقت فراہم کرے گی۔جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی کمیٹی نے اس تحریک کو مؤثر، منظم اور عوامی سطح پر کامیاب بنانے کے لیے ضلعی اور مقامی جمعیتوں کے ذمہ داران سے مشورے کے بعد ایک واضح ہدف کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغاز بھی کردیا ہے۔آئندہ مہینوں میں اس عنوان پرہندوستان کے مختلف صوبوں میں اجلاس ہوں گے، جن کی تیاریا ں شروع کردی گئی ہیں۔مولانا مدنی نے اخیر میں کہاکہ بلاشبہ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات انتہائی مایوس کن اور خطرناک ہیں۔ لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے،ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پر نہیں رہتیں۔بلکہ اپنے کردار وعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔ یہ ہمارے امتحان کی سخت گھڑی ہے۔چنانچہ ہمیں کسی بھی موقع پراپنے دین، صبر،امید اور استقلال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے،وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔قوموں پر آزمائش کی گھڑیاں اسی طرح آتی رہتی ہیں۔مسلمان دنیا کے اندر فنا ہونے کے لئے نہیں آیا،مسلمان چودہ سو سال سے انہیں حالات میں زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔مسلمانوں کو اپنا حوصلہ بلند رکھنا چاہیے،اس چراغ کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔رہتی دنیا تک اللہ اللہ کہنے والے رہیں گے،جس دن وہ نہیں رہیں گے،اس دن یہ دنیا بھی نہیں رہے گی۔ یہی ہمارا ایمان اور عقیدہ ہے کہ ہمیشہ ہمیش صرف اللہ ہی کی حکومت باقی رہنے والی ہے۔پروگرام کے اختتام پر مولانا مدنی نے نے ہزاروں مسلمانوں سے ہاتھ اٹھوا کر یہ عہد لیا کہ موجودہ حالات خواہ کتنے ہی دشوار اور صبر آزما کیوں نہ ہوں، مسلمان ہر حال میں صبر، حسنِ اخلاق، محبت، رواداری اور امن کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے تاکید کی کہ مسلمان کسی نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنے اخلاق اور اپنے حسنِ سلوک سے دیں، کیونکہ اسلام انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے۔دوسری طرف انہوں نے ہندو بھائیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں، کیونکہ ملک باہمی احترام، محبت اور بھائی چارے سے مضبوط ہوتا ہے، نفرت اور انتشار سے نہیں۔










Users Today : 16
Users Yesterday : 512
Users Last 7 days : 2859
Users Last 30 days : 6381
Users This Month : 6367
Users This Year : 6381
Total Users : 4567924