نئی دہلی، 31 مارچ:۔ (ایجنسی) پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے بیت المقدس میں مذہبی مقامات تک رسائی روکنے کے اسرائیلی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہےکہ مسجدِ اقصیٰ اور ہولی چرچ تک عبادت گزاروں کی رسائی روکنا بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ماہِ رمضان کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند رکھنا کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ بیت المقدس اور وہاں موجود مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی اسرائیلی کوشش کو قطعی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اردن کا محکمہ اوقاف ہی مسجدِ اقصیٰ کے تمام امور سنبھالنے کا واحد قانونی اور مجاز ادارہ ہے۔ وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اس انتظام میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔آٹھوں ممالک نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو ان اشتعال انگیز اقدامات سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقدس مقامات کی بے حرمتی اور عبادت پر پابندی خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتی ہے جس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر ہوگی۔



