ہومNationalنماز پر پابندی ناقابل قبول، اگر اہل نہیں تو استعفیٰ دیں افسران

نماز پر پابندی ناقابل قبول، اگر اہل نہیں تو استعفیٰ دیں افسران

نمازیوں کی تعداد متعین کرنے کے معاملے پرالہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل کے ڈی ایم اور ایس پی کی سرزنش کی

پریاگ راج، 14 مارچ:۔ (ایجنسی) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ضلع سنبھل میں رمضان کے دوران نماز ادا کرنے والوں کی تعداد محدود کرنے پر اتر پردیش حکومت کے حکام کو سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ امن و امان برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں یا تبادلہ کروا لیں۔ عدالت کی ڈویژن بنچ جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل تھی۔ بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب مناظر خان کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشن کی سماعت کی جا رہی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مقامی انتظامیہ ایک ایسی زمین پر نماز ادا کرنے سے لوگوں کو روک رہی ہے جہاں ایک مسجد ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق مقامی انتظامیہ نے اس مقام پر صرف 20 افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی ہے، جبکہ رمضان کے دوران اس سے کہیں زیادہ افراد کے آنے کی توقع تھی۔ تاہم اتر پردیش حکومت نے اس مقام پر مسجد کی موجودگی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ زمین یعنی گاتا نمبر 291 ریونیو ریکارڈ میں موہن سنگھ اور بھوراج سنگھ، جو سکھی سنگھ کے بیٹے ہیں، کے نام درج ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ امن و امان کے خدشات کے پیش نظر نمازیوں کی تعداد محدود کی گئی ہے۔ عدالت نے اس جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے مذہبی عبادت محدود کرنے کے لیے بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ بنچ نے کہا ریاست کے وکیل کی پیش کردہ دلیل کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ہر حال میں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے مقامی انتظامیہ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور کلکٹر کو لگتا ہے کہ وہ صورتحال سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں اور اسی وجہ سے نمازیوں کی تعداد محدود کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یا تو استعفیٰ دے دینا چاہیے یا سنبھل سے باہر تبادلہ کروا لینا چاہیے۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ہر برادری کو اپنے مقررہ عبادت گاہوں میں پُرامن طریقے سے عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر عبادت کسی نجی ملکیت میں کی جا رہی ہو تو اس کے لیے ریاست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ اگر مذہبی سرگرمیاں سرکاری زمین یا عوامی مقامات پر ہوں تو اجازت درکار ہوتی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے اس مقام پر مسجد یا عبادت گاہ کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے تصاویر یا دیگر شواہد ریکارڈ پر پیش نہیں کیے۔ عدالت نے دونوں فریقین کو وقت دیتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وہ اضافی حلف نامہ، تصاویر اور متعلقہ ریونیو ریکارڈ عدالت میں پیش کرے تاکہ اس مقام کے بارے میں دعوے کو ثابت کیا جا سکے جہاں نماز ادا کی جانی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 16 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات