Monday, February 2, 2026
ہومNationalراہل کے بیان پر لوک سبھا میں شدید ہنگامہ، کارروائی ملتوی

راہل کے بیان پر لوک سبھا میں شدید ہنگامہ، کارروائی ملتوی

چین کی فوج کیلاش کی چوٹی کی جانب بڑھ رہی تھی؛را ہل کا بیان

نئی دہلی، 2 فروری (یواین آئی) لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے چین سے متعلق ایک بیان پر ایوان میں شدید ہنگامے کے باعث کارروائی دوسری مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلانے ایوان کی کارروائی شام چار بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔بعد میںراہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی تیسری بار دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔صدرِ جمہوریہ کے خطبے پر اظہارِ تشکر کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ ہونے کے سبب ایک بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد سہ پہر تین بجے دوبارہ شروع ہوئی۔ راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنا مؤقف رکھتے ہوئے کہا کہ وہ ہندستان اور چین کے تعلقات سے جڑا ایک بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں۔ کیلاش پروت پر کیا ہوا، اس حوالے سے اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ قومی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے۔ چین کی فوج کیلاش کی چوٹی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ چین سے متعلق ان کے بار بار سوالات اٹھانے پر حکمراں جماعت کے کئی ارکان کھڑے ہو کر احتجاج کرنے لگے۔اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ راہل گاندھی پہلے کی باتوں کو ہی دہرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ وہ اپنی سابقہ باتیں دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے راہل گاندھی کی تقریر کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف جو باتیں کہہ رہے ہیں، ان کی بنیاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں مکمل طور پر خیالی ہیں، اس لیے اس موضوع پر روک لگائی جانی چاہیے۔
راہل گاندھی نے پھر اپنی بات رکھنے کی کوشش کی تو کرن رجیجو نے کہا کہ ملک کو نیچا دکھا کر آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟ ایسی باتیں کی جا رہی ہیں جن کا یہاں کوئی جواز نہیں ہے۔ ایوان میں ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں جن سے فوج کا حوصلہ پست ہو۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی ایسے موضوع پر بات کر رہے ہیں جس کے بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں ہیں۔اس دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ ایوان قواعد و ضوابط کے مطابق چلے گا۔ صدر کے خطبے پر ہی اپنی بات رکھیں۔ آپ مسلسل چیئر کی دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں پر بات کریں۔ اگر فوج پر تنقید کی جائے گی تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ ایوان میں وہی حقائق رکھے جائیں جو قومی مفاد میں ہوں۔راہل گاندھی نے کہا کہ فوج کا ہر جوان حقیقت کو جانتا ہے۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ ہو گیا، جس کے باعث کارروائی شام چار بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔اس سے قبل راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران ایک سابق فوجی سربراہ کی ایک غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ہند-چین سرحد پر ڈوکلام کے تناظر میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔ اس پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی رسالے یا غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دینا ایوان کے قواعد کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قائدِ حزبِ اختلاف غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دے کر ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس پر حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک شروع ہو گئی۔ اس دوران اسپیکر اوم برلا نے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ایوان میں کسی اخبار کی کٹنگ، رسالے یا کسی کتاب میں شائع مواد کی بنیاد پر کوئی رکن اپنی بات نہیں رکھ سکتا۔اس موقع پر وزیر داخلہ امت شاہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بھی مسٹر سنگھ کی حمایت کی اور کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو کسی رسالے کے حوالے سے ایوان میں بات رکھنے کا حق نہیں ہے۔ دونوں جانب کے ارکان نے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر اسپیکر نے کہا کہ ان کی دی گئی ہدایت قواعد کے مطابق ہے اور تمام ارکان کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔مسٹر امت شاہ نے کہا کہ وزیردفاع صرف اتنا ہی پوچھ رہے ہیں کہ جس کتاب کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ شائع ہی نہیں ہوئی، تو پھر اس کا ذکر کہاں سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کر رہے ہیں کہ کتاب شائع نہیں ہوئی۔ امت شاہ نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو بولنے کا حق ہے، لیکن اسپیکر کی ہدایت کی پابندی کی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر کسی دوسرے کی لکھی باتوں کو نہیں بول سکتے۔ وہ ضوابط کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ جب اسپیکر ہدایت دے چکے ہیں تو قائدِ حزبِ اختلاف کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف کی بات سننے کے لیے موجود ہیں، اس لیے انہیں قواعد کے مطابق بات رکھنی چاہیے۔وزیردفاع کے دوبارہ اعتراض کے باوجود جب مسٹر گاندھی بار بار اسی حقائق کا حوالہ دینے کی کوشش کی توایوان میں ہنگامہ مزید بڑھ گیا۔ اس پر اسپیکر نے مسٹر گاندھی کو روکتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رکن کو چیئر کی توہین کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ قواعد کی پابندی کرتے ہوئے اپنی بات رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ منمانی کرتے ہیں تو ایسی صورت حال میں ایوان نہیں چل سکتا۔ہنگامے کے دوران بی جے پی کے رکن ڈاکٹر نشی کانت دوبے نے بھی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اخبار کی کٹنگ، کتاب یا غیر مصدقہ موضوع کا حوالہ نہیں دیا جانا چاہیے۔ اسپیکر اوم برلا نے بھی مسٹر گاندھی سے کہا کہ ایوان میں شائستگی برقرار رکھنا ضروری ہے اور صرف مستند مواد کا ہی ذکر کیا جانا چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ محض بی جے پی لیڈر سوریا کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں۔ اگر وہ اس مسئلے کو نہ اٹھاتے تو وہ ذکر نہیں کرتے لیکن مسٹر برلا نے کہا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے جو معاملے اٹھائے ہیں وہ سب پہلے سے ہی پارلیمنٹ کی کارروائی میں ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ ان کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ممبران قواعد و ضوابط کی پابندی کریں۔سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو نے کہا کہ چین کا مسئلہ بہت حساس ہے اور مسٹر گاندھی کو اس پر بولنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ قاعدہ 349 کے تحت حساس مسائل پر میگزین کے مضامین کا ایوان میں حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے رولز صرف اپوزیشن ارکان تک محدود نظر آتے ہیں۔ جب مسٹر گاندھی نے کہا کہ وہ کتاب کا تذکرہ نہیں کریں گے لیکن اس پر بحث تو کرسکتے ہیں، اس پر اسپیکر نے کہا کہ اس مسئلہ کا ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر اسپیکر کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ بھی نامناسب ہے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ جب مسٹر گاندھی نے پوچھا کہ اسپیکر انہیں بتائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ اس پر مسٹر برلا نے جواب دیا کہ وہ ان کے مشیر نہیں ہیں، لیکن اسپیکر کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایوان قواعد کے مطابق چلے۔ قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں تعاون کریں کہ ایوان قواعد کے مطابق چلے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر قائد حزب اختلاف قواعد پر عمل نہیں کرتے ہیں اور چیئر کی توہین کرتے ہی رہتے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وہ ہندستان اور چین تعلقات کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ حکمراں فریق اپوزیشن پر، اپوزیشن کے کردار پر تبصرہ کرتے ہیں ان کو بولنے نہیں دیا جاتا ہے لیکن ان کا روکا جارہا ہے۔ جب مسٹر گاندھی نے معمول کے مطابق دوبارہ بولنا شروع کیا تو اسپیکر نے دوبارہ اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ قائد حزب اختلاف ایوان میں کچھ بولنا نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رول 353 کے تحت جو آرڈر ہے اس میں اگر کسی شخص کا نام لیتے ہیں تو اس کی اجازت لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان قواعد و ضوابط کے مطابق چلے گا، بار بار چیئر کی توہین نہیں چلے گی اور اگر قائد حزب اختلاف بات نہیں کرنا چاہتے تو وہ اگلا نام پکاریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو بولنے کا حق ہے لیکن انہیں اصولوں اور طریقہ کار کے اندر رہتے ہوئے اور حقائق پربولنا پڑے گا۔ اراکین کو پالیسیوں پر بات کرنے اور ان پر تنقید کرنے کا حق ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات