ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں؛ نیو یارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کا عمر خالد کے نام خط
نئی دہلی، 2 جنوری:۔ (ایجنسی)نیو یارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے کارکن عمر خالد کے نام ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے دل میں تلخی، غصے اور ناانصافی کے احساسات کو جمع نہ ہونے دینے کی بات کو یاد کیا ہے۔ یہ نوٹ عمر خالد کی ساتھی بانوجیوتسنا لہری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا کہ زہران ممدانی نے عمر خالد کو یہ پیغام بھیجا ہے۔
نوٹ کے مندرجات اور ذاتی تاثر
ممدانی کی جانب سے دستخط شدہ اس نوٹ میں لکھا گیا ہے: ’’پیارے عمر، میں اکثر تمہاری اس بات کو یاد کرتا ہوں کہ دل میں رنج، غصہ اور ناانصافی کی کڑواہٹ کو جمع نہیں ہونے دینا چاہیے اور نہ ہی ان احساسات کو اپنے اوپر حاوی ہونے دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ عمر خالد کے والدین سے مل کر خوشی ہوئی اور یہ کہ سب لوگ ان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
2023 کی تقریب اور خطوط کی قرأت
نیو یارک سٹی کے میئر منتخب ہونے سے دو سال قبل، 2023 میں، زہران ممدانی نے نیویارک میں منعقدہ ’’ہاوڈی ڈیموکریسی‘‘ تقریب کے دوران عمر خالد کے خطوط پڑھ کر سنائے تھے۔ تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق طالب علم کارکن اور اسکالر عمر خالد کا خط پڑھنے جا رہے ہیں، جنہوں نے لنچنگ اور نفرت کے خلاف مہم منظم کی۔
عمر خالد کی گرفتاری اور الزامات
تقریب کے دوران یہ بھی بتایا گیا تھا کہ عمر خالد ایک ہزار دن سے زائد عرصے سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967، یعنی یو اے پی اے کے تحت جیل میں قید ہیں، انہیں اب تک ٹرائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ان کی ضمانت کی درخواستیں بارہا مسترد کی جا چکی ہیں۔ ان کے خلاف فروری 2020 کے دہلی فسادات کے مبینہ ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ ہونے کے الزام میں یو اے پی اے اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
امریکی قانون سازوں کا سفارتی خط
دوسری جانب، امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر ونے کواترا کو خط لکھ کر عمر خالد کو ضمانت دینے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ اور بروقت ٹرائل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں امریکی نمائندے جم میک گورن اور جیمی راسکن بھی شامل ہیں۔
طویل حراست پر تشویش کا اظہار
خط میں 2020 دہلی فسادات سے متعلق مقدمات میں خالد سمیت دیگر افراد کی طویل پری ٹرائل حراست پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ قانون سازوں نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری جمہوری اقدار، آئینی طرزِ حکمرانی اور عوامی روابط پر قائم ہے، اور دونوں ممالک آزادی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور تکثیریت کے تحفظ میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
انسانی حقوق اور عدالتی عمل پر سوالات
امریکی قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین اور عالمی میڈیا نے عمر خالد کی حراست سے متعلق تحقیقات اور قانونی عمل کے منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق خالد کو یو اے پی اے کے تحت پانچ سال سے بغیر چارج شیٹ کے جیل میں رکھا گیا ہے اور بارہا تحقیقاتی ایجنسیوں نے ضمانت کی مخالفت کی ہے، جسے انسانی حقوق کے ماہرین بین الاقوامی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
عارضی ضمانت اور آئندہ مطالبات
قانون سازوں نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ عمر خالد کو بہن کی شادی میں شرکت کے لیے عارضی ضمانت دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالتی کارروائی کے دوران خالد کو ضمانت پر رہا کیا جائے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق منصفانہ عدالتی عمل کو یقینی بنایا جائے، تاکہ ہندوستان کے جمہوری اداروں اور عالمی شراکت داریوں پر اعتماد برقرار رہے۔



