Wednesday, February 18, 2026
ہومNationalاکھلیش کا بی جے پی کےخلاف سخت حملہ، کہا اتر پردیش ’انتشار...

اکھلیش کا بی جے پی کےخلاف سخت حملہ، کہا اتر پردیش ’انتشار کی حالت‘ میں ہے

نئی دہلی، 17 فروری (یو این آئی)سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2017 کے بعد سے اتر پردیش میں امن و امان، روزگار، سماجی ہم آہنگی اور طرزِ حکمرانی میں نمایاں گراوٹ آئی ہے۔اپنے واٹس ایپ چینل پر جاری ایک تفصیلی پیغام میں مسٹر یادو نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ ریاست میں جرائم، بے روزگاری اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا، ’’بی جے پی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش جرائم اور بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’2017 سے اتر پردیش انتشار کی حالت میں ہے۔‘‘سابق وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر اور جبراً وصولی کے خوف نے ریاست کے بعض حصوں میں کرفیو جیسا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ پورے اتر پردیش میں غیر قانونی عناصر کا راج ہے‘‘ اور لوگ سکیورٹی پر سوال اٹھانا چھوڑ چکے ہیں کیونکہ ’’بی جے پی حکومت سے کوئی توقع باقی نہیں رہی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’کمیشن خور ہی حکومت چلا رہے ہیں‘‘۔ موجودہ انتظامیہ کو بے بصیرت قرار دیتے ہوئےانہوں نے کہا، ’’بی جے پی کے دور میں اتر پردیش میں امن نہیں، ہر طرف بے چینی ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ریاست عملاً ’’ایک ریاست، ایک مافیا‘‘ میں بدل چکی ہے اور حکمرانی ’’بدانتظامی‘‘ کا شکار ہے۔معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے مسٹریادو نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے آٹھ سالہ دور میں لاکھوں نوکریاں ختم ہوئیں۔ انہوں نے حکومت پر مہنگائی اور بجلی کے بڑھتے بلوں کے ذریعے عوام پر بوجھ ڈالنے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا، ’’بی جے پی حکومت نے عوام سے اتنا پیسہ وصول کیا ہے کہ لوگ ٹیکس ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔‘‘سماج وادی پارٹی کے رہنما نے شکشا متروں کی حالتِ زار پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ انہیں نہ مناسب پہچان ملی اور نہ ہی باعزت زندگی گزارنے کے لیے معقول اعزازیہ۔ انہوں نے کسانوں کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی کی پالیسیوں نے ان کی زمینوں اور آمدنی کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ 2017 سے بی جے پی ’’ فرقہ وارانہ ذہنیت‘‘ کو فروغ دے رہی ہے اور مذہب کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمبھ اور ماگھ میلوں جیسی روایتی مذہبی رسومات متاثر ہوئی ہیں اور معزز مذہبی شخصیات کی توہین کی گئی ہے۔انہوں نے کہا، ’’بی جے پی مذہب کی سیاست کرتی ہے اور مذہبی رہنماؤں سے سرٹیفکیٹ طلب کرتی ہے،‘‘ اور یہ بھی الزام لگایا کہ روایتی گھاٹوں پر بلڈوزر کارروائیاں کی گئیں اور یاترا کے مقامات کو تجارتی شکل دے دی گئی۔ایس پی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے دور میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں اور ایک واقعے کا حوالہ دیا جس میں، ان کے مطابق، اپوزیشن لیڈر کی اہلیہ کی اسمبلی میں توہین کی گئی۔انہوں نے پی ڈی اے (پچھڑا، دلت، اقلیتی) طبقے کے خلاف ناانصافیوں کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ ان طبقات پر زیادتیوں کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اتر پردیش میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ بی جے پی، جو 2017 سے ریاست میں برسرِ اقتدار ہے، مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اس کے دور میں امن و امان، بنیادی ڈھانچے اور فلاحی منصوبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔سیاسی بیان بازی میں شدت کے درمیان، مسٹر یادو نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اپنا ’’آخری خطاب‘‘ دے چکی ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سماج وادی پارٹی آئندہ سیاسی مقابلوں میں حکمرانی، روزگار اور سماجی انصاف کو اہم ایشوز بنائے گی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات