حراست میں پولیس تشدد سے باپ بیٹے کی موت ہوئی تھی؛ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس نے اٹھایا تھا
چنئی، 6 اپریل:۔ (ایجنسی) تمل ناڈو کے ضلع تھوتھوکڈی میں کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران باپ بیٹے کی حراست میں ہلاکت کے ہولناک واقعے میں مدورائی کی ایک عدالت نے پیر کے روز بڑا فیصلہ سناتے ہوئے 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنا دی۔ فرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جی موتھو کمارن نے قرار دیا کہ مجرموں نے نہایت سنگین اور انسانیت سوز جرم کا ارتکاب کیا، اس لیے وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ عدالت نے اس کیس کو ’نایاب ترین‘ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کے ساتھ مختلف جرمانے بھی عائد کیے۔
تاریخی نوعیت کا فیصلہ
یہ فیصلہ کئی حوالوں سے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی کیس میں اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کو سزائے موت دی جائے، خصوصاً جب وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس سے قبل بھی بھارت میں چند اہم مقدمات میں اجتماعی سزائیں دی گئی تھیں، تاہم وقت کے ساتھ اعلیٰ عدالتوں نے ان میں تبدیلیاں کیں۔
واقعے کی تفصیلات
یہ افسوسناک واقعہ 19 جون 2020 کو پیش آیا جب 58 سالہ تاجر جے راج کو مبینہ طور پر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر سٹّانکولم پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں ان کے بیٹے بینکس، جو موبائل فون کی دکان چلاتے تھے، جب اپنے والد کے بارے میں پوچھنے تھانے پہنچے تو انہیں بھی حراست میں لے کر پوری رات تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دونوں شدید زخمی ہوئے اور بتایا جاتا ہے کہ انہیں اپنا خون خود صاف کرنے پر مجبور کیا گیا۔
موت اور عوامی ردعمل
شدید زخمی حالت میں دونوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، جہاں ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ بعد میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم 22 اور 23 جون کو یکے بعد دیگرے دونوں کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعے نے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور عوامی احتجاج شروع ہوگیا۔
تحقیقات اور انکشافات
مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بینچ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا حکم دیا۔ ایک خاتون ہیڈ کانسٹیبل نے بہادری سے عدالت میں تشدد کی تفصیلات بیان کیں، جس کے بعد کیس مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کو منتقل کیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پولیس نے شواہد چھپانے کی کوشش کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو جان بوجھ کر مٹا دیا گیا۔
سی بی آئی کی کارروائی
سی بی آئی نے اس کیس میں متعدد پولیس اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی اور عدالت سے زیادہ سے زیادہ سزا دینے کی درخواست کی۔ ایک ملزم دورانِ حراست کووڈ-19 سے ہلاک ہوگیا، جبکہ باقی 9 کو عدالت نے قصوروار قرار دے کر سزائے موت سنائی۔ یہ فیصلہ انصاف کے نظام میں ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔



