ہومJharkhandوشنوگڑھ سانحہ: بیٹے کی زندگی کیلئے ماں نے بیٹی کی َبلی چڑھائی...

وشنوگڑھ سانحہ: بیٹے کی زندگی کیلئے ماں نے بیٹی کی َبلی چڑھائی تھی

ماں، اس کا عاشق اور تانترک گرفتار ؛ تحقیقات میں اجتماعی عصمت دری کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا

جدید بھارت نیوز سروس
ہزاری باغ ، 2 اپریل:۔ ضلع کے وشنو گڑھ میں پیش آنے والے ہولناک قتل کیس کی گتھی سلجھ گئی ہے۔ پولیس تحقیقات میں یہ لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ ایک ماں نے اپنے بیٹے کی بیماری دور کرنے کیلئے توہم پرستی کے جال میں پھنس کر اپنی ہی 13 سالہ معصوم بیٹی کی ’بلی‘ (انسانی قربانی) دے دی۔
بیٹے کی صحت کے لیے معصوم بیٹی کی قربانی
پولیس کے مطابق، مرکزی ملزمہ ریشمی دیوی اپنے بیٹے سدھیر کمار کی جسمانی اور ذہنی بیماری کی وجہ سے شدید پریشان تھی اور پچھلے ایک سال سے گاؤں کی ایک خاتون تانترک شانتی دیوی (55 سال) کے رابطے میں تھی۔ تانترک نے ماں کو یقین دلایا کہ اگر وہ کسی ’کنواری لڑکی ‘کی بلی چڑھائے گی تو اس کا بیٹا مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے گا۔ تانترک نے ریشمی کو اکسایا کہ اس کی اپنی چھوٹی بیٹی پر ’دیوی کا سایہ‘ ہے، اس لیے اس کی قربانی دینا سب سے بہتر ہوگا۔
منصوبہ بند قتل اور تانترک رسومات
یہ لرزہ خیز واقعہ 24 اور 25 مارچ کی درمیانی رات کو پیش آیا، جب پورا گاؤں منگلا جلوس کے جشن میں مصروف تھا۔ ماں اپنی بیٹی کو بہلا پھسلا کر تانترک کے گھر لے گئی، جہاں تانترک نے پہلے بچی کی پوجا کی، اسے سندور اور کاجل لگایا۔ اس کے بعد بچی کو قریب ہی بانس کی جھاڑیوں میں لے جایا گیا، جہاں تانترک کے اشارے پر ریشمی کے مبینہ عاشق بھیم رام نے بچی کا گلا گھونٹ دیا، جبکہ سنگدل ماں نے بچی کے پیر مضبوطی سے پکڑ رکھے تھے تاکہ وہ تڑپ نہ سکے۔ قتل کے بعد تانترک رسومات کے تحت بچی کے جسم اور شرم گاہ کے ساتھ بربریت کی گئی اور اس کا خون پوجا میں استعمال کیا گیا۔
تحقیقات کا رخ بدلنے والا ایک چھوٹا سا سراغ
ابتدا میں ملزمہ ماں نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے اجتماعی زیادتی اور قتل کی جھوٹی کہانی گھڑی اور ایک مقامی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ تاہم، پولیس کو ایک اہم سراغ نے سچائی تک پہنچا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جلوس کے وقت بچی نے کوئی خاص بناؤ سنگھار نہیں کیا تھا، لیکن جب اس کی لاش ملی تو اس کے چہرے اور جسم پر تانترک انداز میں کیا گیا سنگھار (سندور و ٹیکہ) موجود تھا۔ اس تضاد نے پولیس کے شک کو یقین میں بدل دیا کہ یہ محض جرم نہیں بلکہ تانترک سرگرمی ہے۔
ملزمان کی گرفتاری اور جرم کا اعتراف
ہائی کورٹ کی سختی اور سیاسی دباؤ کے بعد ڈی جی پی کی ہدایت پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی۔ پولیس نے جب تانترک شانتی دیوی کو حراست میں لے کر سختی سے پوچھ گچھ کی تو وہ ٹوٹ گئی اور پوری سازش کا پردہ فاش کر دیا۔ اس کی نشاندہی پر مقتولہ کی ماں اور اس کے ساتھی بھیم رام کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ جب تینوں کو آمنے سامنے بٹھایا گیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کیس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور پولیس کو بھٹکانے کے لیے عصمت دری کا ڈرامہ رچا تھا۔
ایس پی نے تفتیش کی جانکاری دی
ایس پی انجنی انجن نے یہ بھی بتایا کہ بھیم رام اور لڑکی کی ماں ریشمی دیوی کے درمیان کئی سالوں سے ناجائز تعلقات تھے۔ ریشمی کے بچے اسے اپنے باپ کی طرح دیکھتے تھے۔ ریشمی دیوی کے والد ونود کمار سنگھ ممبئی میں کام کرتے تھے۔ بھیم رام کو پورے خاندان پر اختیار حاصل تھا۔ ایس پی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی کی اجتماعی عصمت دری نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کی زبان اور آنکھیں نکالی گئیں۔ اس پورے کیس کی جلد از جلد ٹرائل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ملزمان کو جلد از جلد سخت سزا مل سکے۔ ہزاری باغ کے ڈپٹی کمشنر ششی پرکاش سنگھ نے بتایا کہ خاندان کے ملوث ہونے کی وجہ سے معاوضہ کی رقم بھی روک لی گئی ہے۔
عوامی غم و غصہ اور عدالتی نوٹس
اس بہیمانہ واقعے نے پورے جھارکھنڈ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اسے ’نربھیا-2‘ قرار دیتے ہوئے ہزاری باغ میں ہڑتال کی تھی، جس کا وسیع اثر دیکھا گیا۔ دوسری جانب، جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر واقعے کا ازخود نوٹس (Suo Motu) لیتے ہوئے ریاستی حکومت اور پولیس انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔ ہزاری باغ کے ایس پی انجنی انجن نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ تمام ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات