کسانوں کیلئے موتی پالن کو فروغ دینے کی سرکاری پہل، 75 کسانوں کی شرکت
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،09؍ جنوری:وزیر زراعت شلپی نیہا ترکی کی ہدایت کے مطابق، موتی پالن (Pearl Farming) اور انٹرپرینیورشپ ڈویلپمنٹ کے موضوع پر پانچ روزہ تربیتی پروگرام کا آغازفشریز فارمرز ٹریننگ سینٹر، دھروا، رانچی میں کیا گیا۔اس موقع پر کلیدی مقرر ڈاکٹر کملا شنکر شکلا (سائنسدان، کرشی ویگیان کیندر، چترکوٹ)، امریندر کمار (ڈائریکٹر فشریز)، شمبھو پرساد یادو (ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز)، گیتا نجلی کماری (اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز – ریسرچ)، ڈاکٹر ریتیش شکلا (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ حیوانیات، سینٹ زیویئر کالج، رانچی)، بدھن سنگھ پورتی (ترقی پسند موتی پالک) کے ساتھ ساتھ جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے 75 کسان موجود تھے۔اس موقع پر ڈائریکٹر فشریز امریندر کمار نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ موتی ایک ایسا رتن ہے جو قدیم زمانے سے اس زمین پر پایا جا رہا ہے۔ لیکن پہلے یہ صرف سمندروں، دریاؤں وغیرہ میں ہی ملتے تھے۔ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قدرتی ذرائع سے اس کی دستیابی کم ہونے لگی ہے۔طلب اور پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے پیش نظر وزارت ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری، حکومت ہند نے ہزاری باغ کو موتی پالن کا ‘کلسٹر ڈسٹرکٹ ‘ قرار دیا ہے۔ موتی پالن کی تربیت دے کر کسانوں کو مچھلی پالن کے ساتھ ساتھ موتیوں کی پیداوار کے نئے پہلوؤں سے جوڑنا ہے۔ انہوں نے تمام کسانوں پر زور دیا کہ وہ اس تربیت سے فائدہ اٹھائیں اور اس کی تشہیر کریں۔موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز شمبھو پرساد یادو نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تربیت کے بعد موتیوں کی کاشت کے لیے ‘پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ‘ اور ریاستی اسکیموں کا فائدہ اٹھائیں۔
کلسٹر میں موتیوں کی کھیتی کریں، اس کی پیداوار کے لیے زیادہ زمین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے ڈوبھا، سیمنٹڈ ٹینک یا گھر کے صحن میں بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ موتی پالن سیکھ کر مہارت حاصل کریں اور خود روزگار بننے کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کو بھی روزگار سے جوڑیں۔ ڈاکٹر کملا شنکر شکلا (چیف سائنٹسٹ، کرشی ویگیان کیندر، چترکوٹ) نے موتیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ایسا رتن ہے جو کان کنی (Mining) کے ذریعے نہیں ملتا۔ اس کی پیداوار کے لیے سیپ (Oyster) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس کی پرورش میں مصروف ہیں، وہ ہر کسان خود میں ایک رتن ہے۔ موتی پالن کی تربیت کا مقصد صرف سرٹیفکیٹ حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں مہارت اور فن سیکھنا ہونا چاہیے۔ لہٰذا اس قیمتی وقت سے فائدہ اٹھائیں۔ موتی پالن کے ساتھ ساتھ اس کی پروسیسنگ، اوزاروں کی تیاری، موتی بھسم، کاسمیٹک/کیلشیم پاؤڈر جیسی دیگر اشیاء اور سیپ کے خول سے سجاوٹی سامان بنانے کے روزگار کے مواقع بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ موتی پالن سے ایک شخص اپنے ساتھ دس لوگوں کو بالواسطہ طور پر جوڑ سکتا ہے۔ اسٹیج کی نظامت فشریز ایکسٹینشن آفیسر منجوشری ترکی نے کی اور شکریہ کی تحریک چیف انسٹرکٹر پرشانت کمار دیپک نے پیش کی۔



