اے آئی کے دور میں ڈگری نہیں، قابلیت اصل ہتھیار ہے: ایس ڈی او
جدید بھارت نیوز سروس
چترا، 13؍ فروری: ہنٹر گنج بلاک میں واقع رام نارائن میموریل کالج کے اسٹیڈیم میں سہ روزہ سالانہ کھیلوں کے مقابلے کا اختتام انتہائی جوش و خروش اور مسرت کے ساتھ ہوا۔ پورے کیمپس میں طلبہ کی امنگ، جوش اور کھیل کود کے جذبے کا شاندار سنگم دیکھنے کو ملا۔ تین دن تک جاری رہنے والے ان سنسنی خیز مقابلوں نے نہ صرف کالج میں کھیلوں کی ثقافت کو مضبوط کیا بلکہ طلبہ میں مسابقتی جذبہ اور خود اعتمادی کو بھی فروغ دیا۔ اختتامی تقریب میں صدر ایس ڈی او محمد ظہور عالم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ مقامی تھانہ انچارج پربھات کمار بطور مہمانِ ذی وقار موجود رہے۔ پروگرام کی نظامت این ایس ایس پی او ڈاکٹر فہیم احمد اور روسا (RUSA) کوآرڈینیٹر پروفیسر فخر الدین انصاری نے مشترکہ طور پر کی۔ کالج کے پرنسپل پروفیسر جینندر کمار سنگھ، پروفیسر کماری منجو سنگھ اور پروفیسر پوجا سنگھ نے دونوں مہمانوں کا استقبال شال اور گلدستے پیش کر کے کیا۔ مہمانوں کی آمد پر طالبہ شوریہ کماری اور کماری ردھی کی قیادت میں پھولوں کی بارش اور استقبالیہ گیت نے تقریب کے ماحول کو جشن میں بدل دیا۔ مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء کو اعزاز سے نوازا گیا۔ کھیلوں کے ان مقابلوں میں حصہ لینے والے درجنوں طلبہ نے اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ 400 میٹر دوڑ، 200 میٹر دوڑ، گولہ پھینک، لمبی چھلانگ، اونچی چھلانگ، سوئی دھاگا اور دیگر کئی مقابلوں میں جیتنے والے طلبہ کو مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں شیلڈ، میڈل اور سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ انعام پانے والے اہم طلبہ میں دیپک کمار، دھننجے کمار، ریشو کمار، رام آشیش کمار، نرملا کماری، رینو کماری، چندا بھارتی، کسم کلی، شیلا کماری، زبیری انجم، کاجل کماری، شبھم کمار، وکاس کمار، سدھیر کمار، امن کمار، اکھیلیش کمار، ریما کماری، پریا کماری اور پوجا کماری شامل تھے۔ اس کے ساتھ ہی مقابلے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے لیکچرار پروفیسر انیل کمار سنگھ اور رمیندر کمار سنگھ (وکی) کو بھی شیلڈ اور میڈل سے نوازا گیا۔ تقریب کے دوران ایس ڈی ایم محمد ظہور عالم نے اساتذہ اور طلبہ کو جدید مسابقتی دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا، “ہم ایک ایسے سائنسی دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مقابلہ صرف انسانوں سے نہیں بلکہ ٹولز (Tools) سے بھی ہے۔ انٹرنیٹ، گوگل اور مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا کی تعریف بدل دی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ اور طلبہ خود کو ان ٹولز سے آگے ثابت کریں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ کامیابی کی اصل بنیاد معیاری تعلیم ہے، نہ کہ صرف ڈگری۔ انہوں نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ اے پی جے عبدالکلام جیسی متاثر کن شخصیات کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ اس جدید انقلاب اور ٹولز کے دور میں اساتذہ کو بھی دنیا کے بدلتے ہوئے انداز کے مطابق اپنی مہارتوں (Skills) کو بہتر بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ جب اساتذہ باخبر ہوں گے تب ہی وہ طلبہ کو بدلتی ہوئی دنیا کی حقیقتوں سے آگاہ کر سکیں گے۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کو روزانہ مطالعہ کرنے اور تحقیق (Research) پر زور دینے کی نصیحت کی تاکہ وہ دنیا میں ہونے والی سائنسی تبدیلیوں میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ انہوں نے چار ‘C’ کانفیڈنس (اعتماد)، کریکٹر بلڈنگ (کردار سازی)، کریٹیویٹی (تخلیقیت) اور کنٹری بیوشن آف سوسائٹی (معاشرے میں تعاون) کو زندگی کے انمول اصول قرار دیا۔ایس ڈی ایم نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سماجی اور خاندانی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کو بھی برقرار رکھیں۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا، “اے آئی تقریباً ہر سوال کا جواب دے رہی ہے، لیکن اس سے آگے نکلنے کی صلاحیت ہمارے اساتذہ اور طلبہ میں ہونی چاہیے۔
، تب ہی ہم عالمی مقابلے میں ٹک سکیں گے۔”مہمانِ ذی وقار تھانہ انچارج پربھات کمار نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا، “دیہات کی مٹی میں وہ ٹیلنٹ چھپا ہے جو محنت اور لگن سے ملک اور ریاست کا نام روشن کر سکتا ہے۔ اسی علاقے کے کئی طلبہ آج آئی اے ایس، جے پی ایس سی اور دیگر خدمات میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کھیل طالب علم کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ کھیلوں سے نظم و ضبط، جسمانی چستی، ذہنی توازن اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو پوری زندگی کی بنیاد بن جاتا ہے۔ اس تین روزہ مقابلے کو کامیاب بنانے میں کالج کے تمام لیکچررز، ملازمین، این ایس ایس ٹیم اور محکمہ کھیل کا تعاون قابل تعریف رہا۔ اس شاندار اختتامی تقریب نے نہ صرف طلبہ کی صلاحیتوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا بلکہ ان میں خود اعتمادی، مقابلے کا جذبہ اور کردار سازی کے لیے نئی توانائی بھی بھر دی۔ یہ ایونٹ کالج کی کھیلوں کی ثقافت، تعلیمی ماحول اور استاد شاگرد کے رشتوں کو مضبوط کرنے والا ثابت ہوا۔



