وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی منظوری کے بعد رانچی، بوکارو اور جمشید پور میں لیز ڈیڈ پر دستخط
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 16 مئی:۔ جھارکھنڈ میں ریت کے شدید بحران اور اس کی من مانی قیمتوں پر لگام لگانے کے لیے ریاستی حکومت نے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اب اضلاع کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو ریت گھاٹوں کے مائننگ لیز کی منظوری دینے کا براہِ راست اختیار سونپ دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے اس سلسلے میں پیش کی گئی تجویز کو باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد محکمہ مائنز نے ریاست کے تمام اضلاع کو اس کا سرکاری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ حکومت کے اس اہم فیصلے کے بعد لیز ڈیڈ کی پیچیدہ کارروائی میں پھنسے ہوئے ریت گھاٹوں کو اب بہت جلد چالو کیا جا سکے گا، جس سے عوام کو مناسب قیمت پر ریت دستیاب ہو سکے گی۔
خان محکمہ کا دباؤ اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائی
وزیر اعلیٰ کی جانب سے نئی لائحہ عمل کو منظوری ملنے اور اختیارات تفویض کیے جانے کے بعد خان محکمہ (مائنز ڈیپارٹمنٹ) کی مسلسل پہل اور دباؤ کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز (ڈی سی) نے اب بولی دہندگان کے ساتھ باقاعدہ طور پر اقرار نامہ (Lease Deed) کرنے کی کارروائی تیز کر دی ہے۔ اسی کڑی میں ہفتہ کے روز رانچی، بوکارو اور جمشید پور اضلاع میں کئی اہم ریت گھاٹوں کے لیے لیز ڈیڈ پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اب ضلعی سطح پر ہی تمام کاغذی کارروائی اور منظوری کا عمل پورا ہو جائے گا، جس سے وقت کی بڑی بچت ہوگی۔
رانچی اور بوکارو کے گھاٹوں کے اعداد و شمار
حاصل شدہ معلومات کے مطابق رانچی ضلع میں شیام نگر سینڈ گھاٹ اور چوکے سیرنگ سینڈ ڈپازٹ کے لیے اکرارنامہ مکمل کیا گیا ہے۔ شیام نگر ریت گھاٹ کا رقبہ 5 ہیکٹر ہے، جس کی سالانہ ماحولیاتی منظوری (EC) کی گنجائش 25 لاکھ 42 ہزار 658 کیوبک فٹ (CFT) مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ چوکے سیرنگ ریت گھاٹ 3.50 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جس کی سالانہ صلاحیت 13 لاکھ 80 ہزار 545 سی ایف ٹی ہے۔ دوسری طرف بوکارو ضلع میں پچری-2 سینڈ گھاٹ (رقبہ 4.72 ہیکٹر، صلاحیت 14 لاکھ 82 ہزار 52 سی ایف ٹی) اور کھیتکو-چالکاری ریت گھاٹ (رقبہ 26.14 ہیکٹر) کے لیے لیز ڈیڈ سائن کی گئی ہے۔
جمشید پور کی صورتحال اور مافیا پر لگام
اسی طرح جمشید پور میں کوریا موہن پال اور سورن ریکھا ندی کے خطے سے جڑے دو بڑے ریت گھاٹوں کے لیے اکرارنامہ ہوا ہے، جن میں سے ایک گھاٹ 34.70 ہیکٹر اور دوسرا 46.30 ہیکٹر رقبے پر واقع ہے۔ مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق عام طور پر ایک ہیکٹر رقبے سے 4 سے 5 لاکھ سی ایف ٹی ریت کا اٹھاؤ ممکن ہوتا ہے، جسے گائیڈ لائنز کے مطابق 7 سے 8 ماہ کے اندر نکالا جاتا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اب ریت گھاٹوں کا آپریشن تیزی سے شروع ہوگا جس سے نہ صرف تعمیراتی کاموں کو رفتار ملے گی بلکہ ریت مافیا کی من مانی اور غیر قانونی کان کنی پر بھی سختی سے روک لگائی جا سکے گی۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4595211