ریاست میں بگڑتی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 18؍ جنوری:سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آجسو (AJSU) پارٹی کے سربراہ سدیش مہتو آج جمشید پور کے معروف تاجر اور آدتیہ پور سمال انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے نائب صدر دیوانگ گاندھی کی رہائش گاہ پہنچے اور ان کے اغوا شدہ بیٹے کیرو گاندھی کی بحفاظت واپسی کے لیے اپنی سطح پر ہر ممکن کوشش کرنے کا بھروسہ دلایا۔ مہتو تقریباً 40 منٹ تک گاندھی کی رہائش گاہ پر رہے اور اہل خانہ سے ملاقات کر کے انہیں تسلی دی۔ ان کے ہمراہ سابق وزیر رام چندر ساہس، مرکزی نائب صدر پروین پربھاکر، جنرل سکریٹری ہری لال مہتو اور دیگر رہنما موجود تھے۔ اس کے بعد سدیش مہتو گالوڈیہہ پہنچے اور قتل کے شکار تارا پد مہتو کی اہلیہ اور اہل خانہ سے ملاقات کی۔ کیرو گاندھی کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدیش مہتو نے کہا کہ اگر ریاست میں عدم تحفظ کا ماحول رہے گا، تو وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے غیر ملکی دوروں کا کیا فائدہ؟ مہتو نے کہا کہ ریاستی حکومت اپنی ذمہ داری سے بھاگ نہیں سکتی۔ وزیر اعلیٰ ریاست میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے لندن اور داؤوس جا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہوگی تو ان کا دورہ بے سود ثابت ہوگا، کیونکہ خراب ماحول میں سرمایہ کار نہیں آئیں گے۔ اس موقع پر ستیہ نارائن مہتو، سکھبیر سنگھ، اپو تیواری، منٹو شکلا اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔



