آدیواسیوں کی زمین چھین کر صنعت کاروں کو دینے کا الزام
آدیواسیوں کے حقوق کیلئے ہماری لڑائی جاری رہے گی: وزیر
جدید بھارت نیوز سروس
ڈبروگڑھ؍ رانچی ، 30؍ مارچ: آسام اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران نہر کٹیا اسمبلی حلقہ کے بیلباڑی اور تِن کھونگ اسمبلی حلقہ کے چھلماڑی باغان میں منعقدہ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر شلپی نیہا ٹرکی نے ریاستی حکومت پر تیکھا حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست کے وزیر اعلیٰ کے پاس 12 ہزار بیگھہ بے نامی زمین ہونے کا چرچا ہے، اسی ریاست میں آدیواسی خاندانوں کو ایک بیگھہ زمین کا پٹہ بھی نہیں مل پا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انتہائی بدقسمتی کی بات ہے بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات کیا ہیں اور عام آدیواسی خاندان کس طرح نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ آج آدیواسیوں کی زمین صنعت کاروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ آدیواسی سماج کی اصل پہچان ان کا جل، جنگل اور زمین ہے۔ جب تک جل، جنگل اور زمین محفوظ ہے، تب ہی تک آدیواسیوں کی شناخت محفوظ رہ سکتی ہے۔ ہماری لڑائی آدیواسی سماج کے حقوق، وقار اور ان کی زمین کے تحفظ کے لیے ہے۔ کانگریس کی حکومت بننے پر آدیواسیوں کو ان کی زمین کا حق، پٹہ اور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام اب تبدیلی کا ذہن بنا چکے ہیں۔ دس سالہ بدعنوان دورِ حکومت سے لوگ نجات چاہتے ہیں۔ صرف مذہبی جنون پھیلا کر اور ووٹوں کی پولرائزیشن کر کے اقتدار میں برقرار رہنے کی سیاست اب زیادہ دن نہیں چلنے والی۔ عوام بیدار ہو چکے ہیں اور سب کچھ سمجھ چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام جھوٹ اور بدعنوانی سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ لوگوں کو اچھی حکمرانی، بہتر صحت کا نظام، معیاری تعلیم اور نوجوانوں کے لیے روزگار چاہیے۔ ساتھ ہی چائے کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کو انصاف، احترام اور ان کا حق ملنا چاہیے۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آنے والے انتخابات میں عوام عوام دشمن پالیسیوں کا جواب دیں گے اور کانگریس کی حمایت کر کے عوامی مفاد کی حکومت بنائیں گے۔



